خلاصہ
- بیجنگ: (ویب ڈیسک) چین میں ایک نئی سنسنی پھیل رہی ہے، جہاں ایک عجیب و غریب پراسرار اور عام سی نوعیت کی تھری ڈی اینیمیٹڈ فلم ناظرین کو محظوظ کر رہی ہے۔
اینیمیٹڈ فلم نیولائی (Niulai) کو ابتدا میں انتہائی خراب تبصرے ملے، لیکن اس سے فلم میں دلچسپی مزید بڑھ گئی اور باکس آفس پر حیران کن تیزی دیکھنے میں آئی۔
یہ فلم ایک بچھڑے کی کہانی ہے، جس نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے خاندان کی مدد سے بڑا ہو رہا ہے، ریلیز ہونے کے بعد پہلے 10 دنوں میں فلم نے باکس آفس پر صرف تقریباً 10 ہزار یوآن (1,480 ڈالر) کمائے۔
فلمی اعداد و شمار پر نظر رکھنے والے پلیٹ فارم ماؤیان کے مطابق بعض دنوں میں فلم نے باکس آفس پر صرف 200 یوآن (30 ڈالر) کمائے، یہ اعداد و شمار غیر معمولی طور پر کم تھے، خاص طور پر موسم گرما کے فلمی سیزن کے دوران تو بہت ہی کم تھے، لیکن ماؤیان کے مطابق پیر کو فلم کے باکس آفس میں اچانک اضافہ ہوا اور اس نے 8.2 ملین یوآن (1.2 ملین ڈالر) کمائے، جبکہ تقریباً 3 لاکھ افراد نے فلم دیکھی۔
فلم کی مجموعی باکس آفس آمدنی 2.5 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
چین کی مقامی نیوز ویب سائٹ ریڈ سٹار نیوز نے رپورٹ کیا کہ یہ فلم پانچ سال کے عرصے میں صرف دو افراد ہدایت کار ژن یومینگ اور ان کی والدہ سن لی فان نے بنائی، میڈیا ہاؤس ہدایت کار ژن سے رابطہ نہیں کر سکا اور آزادانہ طور پر اس دعوے کی تصدیق بھی نہیں کر سکا۔
سینیما گھروں میں نظر آنے والے پوسٹرز میں ایک بچھڑے کی تصویر دکھائی گئی تھی، جسے بغیر رنگ کے قلم سے ہاتھ سے بنایا گیا تھا، جبکہ ساتھ میں ہاتھ سے لکھے نعرے درج تھے: ’اگر آپ عجیب و غریب چیزوں کے شوقین ہیں تو چلے آئیں‘ اور ’رقم واپس نہیں ہوگی۔‘
چین کے مقبول فلمی جائزوں کے پلیٹ فارم دوبان پر ناظرین نے طنزیہ اور حیرت زدہ تبصروں کی بھرمار کر دی۔
مقبول ترین کمنٹس میں کہا گیا کہ یہ ناقابلِ یقین حد تک خراب اور آنکھیں کھول دینے والی ہے، نئی انٹرنیٹ ٹرول ثقافت کی علامت ہے اور چینی سٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کے لیے لازمی دیکھنے والی فلم ہے۔
آخری تبصرہ فلم کے نام نیولائی کے ساتھ لفظی کھیل ہے، جس کا چینی زبان میں لفظی مطلب ہے، بیل آ رہا ہے، جو مارکیٹ میں تیزی کی خواہش کی طرف اشارہ ہے۔
گوانگ ژو کے ایک پیشہ ورانہ سکول کے استاد ژونگ جیامنگ نے اسے ایسے دور میں ایک نایاب دریافت قرار دیا جب فلمیں اکثر ظاہری طور پر شاندار اور نفیس ہوتی ہیں، لیکن ان کی کہانیاں ناظرین کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں ناکام رہتی ہیں، یہ نوجوان دل رکھنے والوں کے لیے فلم ہے، یہ بچوں کی سونے سے پہلے سنائی جانے والی کہانی کی طرح سادہ اور بے ساختہ ہے۔