امریکی وسط مدتی انتخابات سے اے آئی صنعت کو بڑا سیاسی دھچکا

امریکی وسط مدتی انتخابات سے اے آئی صنعت کو بڑا سیاسی دھچکا

امریکا میں منگل کو 10 ریاستوں میں ڈیٹا سینٹرز سے متعلق 41 مقامی بیلٹ اقدامات پر ووٹنگ ہوئی، نتائج کے مطابق صرف نارتھ ڈکوٹا کے شہر ہارووڈ میں ایک استثنیٰ سامنے آیا، جبکہ باقی تقریباً تمام مقامات پر ووٹروں نے ڈیٹا سینٹرز پر پابندیوں یا سخت نگرانی کی حمایت کی۔

اوہائیو میں مرکزی انتخابی موضوع 

ریاست اوہائیو میں اکیلے 21 تجاویز ووٹ کے لیے پیش کی گئی تھیں، یہاں ڈیٹا سینٹرز کا معاملہ سینیٹ کے انتخاب میں بھی اہم موضوع رہا۔ ڈیموکریٹ امیدواروں نے ریپبلکن قیادت پر الزام لگایا کہ وہ مقامی آبادی کے مفادات پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ترجیح دے رہی ہے۔

اوہائیو وہی ریاست ہے جہاں اوپن اے آئی نے رواں سال دنیا کے سب سے بڑے مجوزہ اے آئی ڈیٹا سینٹر منصوبوں میں سے ایک میں آٹھ گیگاواٹ کمپیوٹنگ صلاحیت حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا، اس منصوبے میں سافٹ بینک، ایس بی انرجی اور امریکی محکمہ توانائی شریک ہیں جبکہ این ویڈیا بھی اس کی معاون کمپنیوں میں شامل ہے۔ منصوبے کی مجموعی لاگت 500 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔

اب اس منصوبے کو نئی سیاسی مزاحمت کا سامنا ہو سکتا ہے، اوہائیو میں ڈیموکریٹ امیدوار ایمی ایکٹن نے گورنر کا انتخاب جیت لیا ہے اور وہ ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر ’مشروط پابندی‘ کی حامی ہیں، جب تک یہ منصوبے اپنی مکمل توانائی لاگت خود برداشت نہ کریں اور یونین مزدوروں کو روزگار نہ دیں۔

ٹیکساس میں بڑا انتخابی دھچکا

انتخابات کی ایک اہم خبر ٹیکساس سے آئی جہاں ڈیموکریٹ امیدوار جینا ہینوخوسا نے ریپبلکن گورنر گریگ ایبٹ کو شکست دی، ہینوخوسا نے اپنی مہم کے دوران الزام لگایا تھا کہ ایبٹ نے مقامی آبادی کے مفادات کے بجائے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مفادات کو ترجیح دی اور ریاست میں ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے توسیع کی حوصلہ افزائی کی۔

ٹیکساس کو 2030 تک دنیا کی سب سے بڑی ڈیٹا سینٹر مارکیٹ بننے کا امیدوار سمجھا جا رہا تھا۔

سیلیکون ویلی کی بھاری سرمایہ کاری غیر مؤثر

انتخابات میں سیلیکون ویلی اور ٹیکنالوجی صنعت سے وابستہ گروپوں نے ریکارڈ مالی سرمایہ کاری کی، کرپٹو کرنسی، مصنوعی ذہانت اور آن لائن جوئے سے وابستہ مفادات نے مجموعی طور پر 377 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے۔

ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک، جو اس انتخابی دور کے سب سے بڑے انفرادی عطیہ دہندہ تھے، کم از کم 474 ملین ڈالر سیاسی مہمات پر خرچ کرنے کے باوجود ٹیکساس کی اہم انتخابی دوڑوں میں اپنے حمایت یافتہ امیدواروں کو کامیاب نہ کرا سکے۔

نتائج کے بعد مسک نے طنزیہ انداز میں ایکس پر لکھا، ’اس وقت خلا میں ڈیٹا سینٹرز کا خیال کافی پرکشش لگ رہا ہے۔‘

عوامی تشویش کتنی بڑی تھی؟

امریکا میں برطانوی نشریاتی ادارے کے شراکت دار میڈیا ہاؤس کے سروے کے مطابق 56 فیصد ووٹروں نے کہا کہ ڈیٹا سینٹرز کا معاملہ ان کے ووٹ کا اہم یا فیصلہ کن عنصر تھا۔ ڈیموکریٹ ووٹروں میں اس مسئلے کی حساسیت نسبتاً زیادہ دیکھی گئی۔

مقامی برادریوں کی شکایات میں بجلی کے بڑھتے استعمال، پانی کے وسائل پر دباؤ، ماحولیاتی اثرات اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو دی جانے والی مراعات شامل تھیں۔

ڈیموکریٹس کی نئی حکمت عملی: اے آئی کمپنیوں کا احتساب

انتخابی نتائج سامنے آنے کے چند گھنٹوں کے اندر ڈیموکریٹ رہنماؤں نے اے آئی صنعت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنا شروع کر دیا۔

ٹیکساس سے ڈیموکریٹ رکن کانگریس گریگ کاسار نے مطالبہ کیا کہ اے آئی کمپنیوں کے سربراہوں کو کانگریس کے سامنے حلف کے تحت گواہی دینے کے لیے طلب کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹ اکثریت کو امریکی ملازمتوں، آزادیوں اور عوامی مفادات کے تحفظ کو اولین ترجیح بنانا چاہئے، ووٹروں نے ارب پتی اے آئی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کے سیاسی اثر و رسوخ کو مسترد کر دیا ہے۔