سپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کا 4 ٹن وزنی دوسرا حصہ چاند سے ٹکرانے کیلئے تیار

سپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کا 4 ٹن وزنی دوسرا حصہ چاند سے ٹکرانے کیلئے تیار

ماہرین کے مطابق یہ راکٹ 8690 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند کے آئن اسٹائن کریٹر سے ٹکرائے گا جس سے چاند کی سطح پر گرد و غبار کے بڑے بادل اٹھنے کا امکان ہے، تاہم اسے زمین سے کھلی آنکھ سے نہیں دیکھا جاسکے گا۔

سپیس ایکس کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ غیر ارادی ہے، چونکہ قمری مشن کیلئے راکٹ کو زیادہ طاقت درکار تھی، اس لیے اس کا دوسرا مرحلہ زمین پر واپس آنے کے بجائے خلا میں رہ گیا اور بعد میں شمسی سرگرمیوں اور کشش ثقل کے باعث اس کا مدار چاند کی جانب مڑ گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تصادم سے کسی انسان یا زمین کو کوئی خطرہ نہیں البتہ اس سے سائنسی معلومات حاصل ہو سکتی ہیں، یہ واقعہ خلا میں چھوڑے گئے ملبے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کی ضرورت بھی اجاگر کرتا ہے۔

اس سے قبل 2022ء میں ایک چینی راکٹ بھی غیر ارادی طور پر چاند سے ٹکرایا تھا، جبکہ ناسا نے 2009ء اور 1970ء کی دہائی میں سائنسی تحقیق کیلئے جان بوجھ کر راکٹ کے حصے چاند سے ٹکرائے تھے۔