بغیر دوا جلد نیند لانے والا جدید الٹراساؤنڈ پیچ تیار

بغیر دوا جلد نیند لانے والا جدید الٹراساؤنڈ پیچ تیار

سائنسدانوں کے مطابق NEUSLeeP نامی یہ ڈیوائس ایسے الیکٹروڈز کو یکجا کرتی ہے جو حقیقی وقت میں دماغی سرگرمی کی نگرانی کرتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ جدید ٹیکنالوجی دماغ کے ان گہرے حصوں کو ہدف بنا سکتی ہے جو REM نیند (Rapid Eye Movement sleep) سے منسلک ہوتے ہیں، جبکہ اسی دوران دماغ کے ردعمل کو بھی مانیٹر کیا جاتا ہے۔

سائنسدانوں نے 28 افراد پر اس پیچ کے تجربات کیے، جن کے نتائج سائنسی جریدے نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہوئے۔

تحقیق کے مطابق ڈیوائس استعمال کرنے والے افراد اوسطاً 43 منٹ پہلے REM نیند میں داخل ہوئے، جبکہ انہوں نے اس مرحلے میں تقریباً 16 منٹ اضافی گزارے، یہ اثر صحت مند افراد کے ساتھ ساتھ نیند کے مسائل کا سامنا کرنے والے افراد میں بھی دیکھا گیا۔

شرکاء کے مطابق پیچ پہننے میں آرام دہ تھا، جبکہ تحقیق کے دوران اس کے مضر اثرات بھی انتہائی معمولی پائے گئے۔

محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ الٹراساؤنڈ کے بعد جسم میں تناؤ کو منظم کرنے سے منسلک بعض تبدیلیاں سامنے آئیں۔

صحت مند شرکاء میں دل کی دھڑکن کے اتار چڑھاؤ، یعنی ہارٹ ریٹ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جسے عموماً جسم کی تناؤ سے نمٹنے اور ردعمل ظاہر کرنے کی صلاحیت سے منسلک کیا جاتا ہے۔

دماغی امیجنگ کے دوران جذباتی عمل سے متعلق دماغی سرکٹس میں بھی تبدیلیاں دیکھی گئیں۔

محققین کے مطابق یہ نتائج اہم ہیں کیونکہ REM نیند میں خلل کو ڈپریشن، بے چینی اور پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) جیسی ذہنی صحت کی مشکلات سے منسلک کیا گیا ہے۔

سائنسدانوں نے واضح کیا کہ NEUSLeeP کو کسی باقاعدہ علاج کے طور پر استعمال کرنے سے قبل بڑے پیمانے پر مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

مستقبل میں ہونے والی تحقیقات میں یہ جانچنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے کہ آیا یہ ٹیکنالوجی دائمی بے خوابی، ڈپریشن اور PTSD کا سامنا کرنے والے افراد کے لیے بھی مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔