خلاصہ
- نیویارک: (ویب ڈیسک) ڈیجیٹل ویڈیو پلیٹ فارمز کے درمیان بڑھتی ہوئی عالمی مسابقت کے پیشِ نظر، یوٹیوب نے اپنے ٹاپ کنٹینٹ کری ایٹرز کو نیٹ فلکس پر جانے سے روکنے اور مواد کو اپنے پلیٹ فارم تک محدود رکھنے کے بدلے کروڑوں ڈالرز کے مالیاتی پیکیج کی پیشکش کردی۔
امریکی نشریاتی ادارے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق یوٹیوب کنٹینٹ کری ایٹرز کو رقم کی ادائیگی 2 مختلف طریقوں سے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، ان میں مخصوص پروگراموں کی براہِ راست فنڈنگ اور بڑے پیمانے کی تجارتی شراکت داریوں سے حاصل ہونے والے ریونیو کا حصہ شامل ہے۔
اگرچہ ابھی تک باضابطہ معاہدے طے نہیں پائے، تاہم یوٹیوب متعدد معروف کری ایٹرز کے ساتھ ڈیلز کو حتمی شکل دینے کے انتہائی قریب پہنچ چکا ہے۔
یوٹیوب کے اعلیٰ حکام نے اپنے کری ایٹرز کو خبردار بھی کیا ہے کہ جو افراد نیٹ فلکس پر اپنا مواد پیش کریں گے یا وہاں لائیو سٹریمنگ کریں گے، انہیں یوٹیوب کی مارکیٹنگ مہمات سے الگ کر دیا جائے گا، موجودہ دور میں یوٹیوب دنیا بھر میں کسی بھی دوسرے سٹریمنگ سروس کے مقابلے میں زیادہ بڑا اور وسیع ناظرین کا طبقہ رکھتا ہے۔
مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال یوٹیوب کی کل آمدنی 60 ارب ڈالرز سے تجاوز کر گئی تھی، جو اسی سال نیٹ فلکس کی مجموعی آمدنی سے کہیں زیادہ تھی، اس کے علاوہ یوٹیوب گزشتہ 4 سالوں کے دوران اپنے کری ایٹرز کو 100 ارب ڈالرز سے زیادہ رقم تقسیم کر چکا ہے۔
دوسری جانب نیٹ فلکس نے بھی نوجوان ناظرین کو متوجہ کرنے کے لیے یوٹیوب کے مقبولِ عام ڈیجیٹل مواد جیسے کوکومیلن کے لائسنس حاصل کیے ہیں، جس کے بعد دونوں اداروں کے درمیان مواد کی بالادستی کے لیے ایک نئی معاشی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔