خلاصہ
- نیو یارک: (ویب ڈیسک) سائنسدانوں نے زحل کے برفیلے چاند انسیلاڈس کے زیرِ سطح سمندر جیسا ماحول لیبارٹری میں تیار کر کے اس میں زمین پر پائے جانے والے ایک جرثومے کو زندہ رکھنے میں کامیابی حاصل کر لی۔
جرمنی میں محققین نے انسیلاڈس کی برفانی سطح کے نیچے موجود سمندر کی ممکنہ صورتِ حال کو لیبارٹری میں نقل کیا، اس کے لیے پانی، نمکیات، کاربونیٹس اور چٹان کے ذرات استعمال کیے گئے تاکہ چاند کے انتہائی الکلائن سمندر اور اس کی تہہ میں ہونے والے کیمیائی عمل کی مشابہت پیدا کی جا سکے۔
محققین نے اس ماحول میں Methanothermococcus okinawensis نامی جرثومہ شامل کیا، جو زمین پر گہرے سمندر میں موجود ہائیڈرو تھرمل وینٹس کے قریب پایا جاتا ہے، سخت حالات کے باوجود جرثومہ ناصرف زندہ رہا بلکہ اس میں افزائش بھی ہوئی۔
سائنسدانوں کے مطابق انسیلاڈس پہلے ہی ان خصوصیات کی وجہ سے نظامِ شمسی میں زمین سے باہر زندگی کی تلاش کے لیے اہم مقام سمجھا جاتا ہے۔
ناسا کے خلائی مشن کیسینی نے چاند کی برفانی تہہ کے نیچے وسیع نمکین سمندر، نامیاتی مرکبات اور ہائیڈروجن کی موجودگی کے شواہد حاصل کیے تھے، جبکہ سمندر کی تہہ میں ہائیڈرو تھرمل سرگرمی کے امکانات بھی موجود ہیں۔
انسیلاڈس کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کے جنوبی قطب کے قریب دراڑوں سے پانی کے بخارات اور برف کے ذرات کے بڑے فوارے خلاء میں خارج ہوتے ہیں، کیسینی خلائی جہاز ان فواروں کے اندر سے گزر کر ان کا تجزیہ بھی کر چکا ہے۔
ایک الگ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ برف جمنے کے عمل کے دوران سمندر میں موجود مختلف مواد مخصوص برفانی ذرات میں محفوظ ہو سکتا ہے، جس سے مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے حیاتیاتی نشانات تلاش کرنا آسان ہو سکتا ہے۔
سائنسدانوں نے واضح کیا ہے کہ اس تجربے سے انسیلاڈس پر زندگی کی موجودگی ثابت نہیں ہوتی، تحقیق میں زمین پر ارتقا پانے والے جرثومے کا استعمال کیا گیا تھا، جبکہ یہ معلوم نہیں کہ انسیلاڈس پر کبھی زندگی آزادانہ طور پر وجود میں آئی یا نہیں۔