ارب پتی باپ نے اکلوتے بیٹے کو عام آدمی بنا دیا

Published On 17 Aug 2016 08:56 PM 

ساوجی ڈھولکھیا نامی اس گجراتی بزنس مین کی کمپنی کی مالیت 6 ہزار کروڑ روپے بنتی ہے اور دنیا کے 71 ممالک میں اس کے دفاتر موجود ہیں۔


نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک ارب پتی بزنس مین نے اپنے اکلوتے بیٹے کو زندگی کے گُر سکھانے کیلئے اپنے بل بوتے پر ایک ماہ گزارنے کا ٹاسک دیا تھا۔ 21 سالہ دراویا ڈھولکھیا نامی یہ نوجوان امریکہ میں زیر تعلیم ہے اور حال ہی میں چھٹیاں گزارنے کیلئے بھارت اپنی فیملی کے پاس آیا تھا۔ واپس آتے ہی ارب پتی باپ نے اپنے بیٹے کو کچھ تلخ حقائق سکھانے کا فیصلہ کیا اور اسے ٹاسک دیا کہ وہ بغیر کسی سہارے کے ایک ماہ گزار کر دکھائے۔
دراویا ڈھولکھیا نے اپنے باپ کا چیلنج قبول کیا اور بھارت کے علاقے کوچی میں جانے کا فیصلہ کیا۔ نوجوان نے بتایا کہ پہلے پانچ دن اس نے انتہائی اذیت اور پریشانی میں گزارے کیونکہ اس کے پاس یہاں نہ تو رہنے کی جگہ تھی اور نہ ہی کھانے کو کچھ تھا۔ اس نے بتایا کہ اس نے نوکری کی بہت تلاش کی لیکن 60 جگہوں سے اسے دھتکار دیا گیا۔ یہ صورتحال دیکھ کر وہ ہمت ہار گیا۔ اس نے بتایا کہ مجھے ان ابتدائی دنوں میں ہی پتہ چل گیا کہ مسترد کئے جانے کا غم اور نوکری کی اہمیت کیا ہوتی ہے۔ دراویا ڈھولکھیا نے اس ایک ماہ میں پیش آنے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ جب بھی نوکری ڈھونڈنے جاتا تو جھوٹ بولتا کہ اس کا تعلق گجرات کے ایک غریب گھرانے سے ہے اور اسے نوکری کی اشد ضرورت ہے۔ دراویا ڈھولکھیا کو سب سے پہلی نوکری ایک بیکری میں ملی، بعد ازاں اس نے ایک کال سینٹر، جوتوں کی دکان اور ریسٹورنٹ میں بھی جاب کی۔ اس نے بتایا کہ اس نے پورے ماہ میں 4 ہزار روپے کمائے جبکہ روزانہ ایک وقت کے کھانے کیلئے اسے 40 روپے درکار ہوتے تھے۔
واضح رہے کہ ساوجی ڈھولکھیا نامی بھارتی ارب پتی بزنس مین نے اپنے بیٹے کو کپڑوں کے تین جوڑے اور 7 ہزار روپے تھمائے اور کہا کہ بیٹا ان کو صرف اس صورت میں خرچ کرنا جب تم کسی بہت بڑی پریشانی میں مبتلا ہو۔ بھارتی میڈیا سے گفتگو میں ساوجی ڈھولکھیا نے بتایا کہ میں نے اپنے بیٹے کے سامنے شرائط رکھی تھیں کہ اسے پیسوں کیلئے عام آدمی طرح کام کرنا پڑے گا اور کسی بھی جگہ وہ ایک ہفتہ سے زائد کام نہیں کرے گا۔ دوسرا یہ کہ وہ اپنے باپ کی شناخت اور موبائل فون بھی استعمال نہیں کرے گا۔ جبکہ تیسرا یہ کہ وہ ایسی جگہ جانے کا انتخاب کرے گا جہاں وہ واقف نہیں ہوگا۔ ساوجی ڈھولکھیا کا کہنا تھا کہ اپنے بیٹے کو یہ ٹاسک دینے کا مقصد صرف اسے یہ سکھانا تھا کہ ایک عام اور غریب آدمی کو زندہ رہنے کیلئے کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عام آدمی کی طرح ایک ماہ گزارنے کے بعد میرے بیٹے کو جو سبق ملا ہے وہ دنیا کی کوئی بھی یونیورسٹی نہیں دے سکتی۔