کبوتر راستہ کیسے نہیں بھولتے؟ سائنسی تحقیق نے حیران کن راز سے پردہ اٹھا دیا

کبوتر راستہ کیسے نہیں بھولتے؟ سائنسی تحقیق نے حیران کن راز سے پردہ اٹھا دیا

اسی غیر معمولی خوبی کی بدولت قدیم زمانے میں کبوتروں کو پیغام رسانی کے لیے باقاعدہ استعمال کیا جاتا تھا تاہم یہ سوال ہمیشہ سے سائنسدانوں کے لیے دلچسپی کا باعث رہا کہ آخر کبوتر راستہ تلاش کیسے کرتے ہیں؟

اس معمہ کو حل کرنے کے لیے سائنسدانوں نے جدید تحقیق کے دوران کبوتروں کے دماغ کا تفصیلی مطالعہ کیا، تحقیق میں زمین کے مقناطیسی میدان جیسا ایک مصنوعی فیلڈ تیار کیا گیا اور کبوتروں کو اس ماحول میں رکھا گیا جس کے نتائج نہایت حیران کن سامنے آئے۔

تحقیق کے مطابق کبوتر کے دماغ کے وہ حصے جو سمت اور راستہ تلاش کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں، ان کا تعلق اندرونی کان سے ہوتا ہے، اندرونی کان میں موجود نہایت باریک ننھے بال زمین کے مقناطیسی میدان کی لہروں سے متحرک ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں برقی سگنلز پیدا ہوتے ہیں۔

یہی سگنلز کبوتروں کو یہ بتاتے ہیں کہ کس سمت میں پرواز کرنی ہے اور ان کی منزل کہاں واقع ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی اصول آج کے جدید وائرلیس موبائل چارجرز میں بھی استعمال ہو رہا ہے، جہاں مقناطیسی فیلڈ میں تبدیلی کے ذریعے برقی لہریں پیدا کر کے موبائل فون کو چارج کیا جاتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق فطرت میں موجود یہ نظام جدید ٹیکنالوجی کے لیے بھی ایک متاثر کن مثال ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ قدرت کے راز آج بھی انسان کو سیکھنے اور آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔