خلاصہ
- نیویارک: (ویب ڈیسک) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے یو این آر ڈبلیو او سے متعلق قوانین منسوخ نہ کرنے پر عالمی عدالت جانے کا اعلان کر دیا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی (یو این آر ڈبلیو او) کو نشانہ بنانے والے قوانین کو منسوخ نہ کیا اور قبضے میں لئے گئے اثاثے اور جائیدادیں واپس نہ کیں تو اسے عالمی عدالت انصاف میں لے جایا جائے گا۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے نام 8 جنوری کے ایک خط میں انتونیو گوتریس نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ اسرائیل کے ان اقدامات پر خاموش نہیں رہ سکتا جو بین الاقوامی قانون کے تحت اس کی ذمے داریوں سے براہِ راست متصادم ہیں۔
انتونیوگوتریس نے کہا کہ ان اقدامات کو بلا تاخیر واپس لیا جانا چاہئے، اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے اکتوبر 2024ء میں ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت یو این آر ڈبلیو اوکے اسرائیل میں کام کرنے پر پابندی لگا دی گئی تھی اور حکام کو اس کے ساتھ رابطے سے روک دیا گیا تھا، اس کے بعد گزشتہ ماہ اس قانون میں ترمیم کی گئی تاکہ یو این آر ڈبلیو اوکی تنصیبات کو بجلی اور پانی کی فراہمی بند کی جا سکے۔
اقوام متحدہ مشرقی بیت المقدس کو اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقہ تسلیم کرتی ہے، جبکہ اسرائیل پورے شہر کو اپنا علاقہ قرار دیتا ہے، اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے گزشتہ روزنیتن یاہو کے نام گوتریس کے خط کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم سیکرٹری جنرل کی دھمکیوں سے پریشان نہیں ہیں، یو این آر ڈبلیو او کے عملے کے دہشت گردی میں ناقابلِ تردید طور پر ملوث ہونے کے معاملے کو حل کرنے کے بجائے سیکرٹری جنرل اسرائیل کو دھمکیاں دینے کا انتخاب کر رہے ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کا دفاع نہیں بلکہ دہشت گردی میں ملوث ایک تنظیم کا دفاع ہے۔