خلاصہ
- واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری پروگرام کے حصول سے متعلق ایک بار پھر متنبہ کردیا کہ ایران کو جوہری سرگرمیاں بند کرنا ہوں گی، جوہری پروگرام بحال ہوا تو کارروائی کریں گے۔
امریکی میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ماضی میں امریکا کی کارروائی نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روک دیا، اگر امریکا نے ایران کے ایٹمی نظام کو نشانہ نہ بنایا ہوتا تو ایران دو ماہ کے اندر جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا۔
ترمپ نے کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش ترک کرنی چاہئے، امید ہے کہ کہ ایران کے خلاف مزید کوئی کارروائی نہیں ہوگی، ایران میں سڑکوں پر اندھا دھند لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا لیکن ان کی جانب سے فوجی کارروائی کی دھمکی کے بعد ایرانی حکام نے سینکڑوں افراد کو پھانسی دینے کا ارادہ ترک کردیا۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نےفلسطینی تنظیم حماس کو بھی سخت واننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ حماس نے چند دنوں میں ہتھیار نہ ڈالے تو اُسے نیست و نابود کرکے رکھ دیں گے۔
ورلڈ اکنامک فورم میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلامی مزاحمتی تنظیم حماس کو کھلی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حماس نے ہتھیار نہ ڈالے تو اسے حزب اللہ کی طرح مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا، آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ حماس اپنے کیے گئے وعدوں پر عمل کرتی ہے یا نہیں۔
صدر ٹرمپ نے انتہائی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حماس نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا تو امریکا بھرپور اور فیصلہ کن کارروائی کرے گا، اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو انہیں بہت تیزی سے تباہ کر دیا جائے گا، وہ مکمل طور پر نیست و نابود ہو جائیں گے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ حماس کے خلاف وہی حکمتِ عملی اختیار کی جائے گی جو اس سے قبل حزب اللہ کے خلاف اپنائی گئی، حزب اللہ کی طرح جو بھی ایکشن لینا پڑا ہم لیں گے، امریکا اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔