خلاصہ
- ماسکو(دنیا نیوز) روسی صدر کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے روس، امریکا اور یوکرین کے درمیان ابوظہبی میں ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کو تعمیری مگر نہایت پیچیدہ عمل قرار دے دیا۔
روسی صدارتی ترجمان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات دو روز تک جاری رہے، یہ عمل ایک ہی وقت میں مثبت بھی تھا اور مشکل بھی ہے ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کا سلسلہ رکا نہیں بلکہ آگے بڑھتا رہے گا۔
امریکی ایلچی کے مطابق روسی اور یوکرینی وفود آئندہ ہفتوں میں تنازع کے حل سے متعلق مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ 4 اور 5 فروری کو ابوظہبی میں روس، امریکا اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کا دوسرا دور منعقد ہوا، مذاکرات کے بعد امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے اعلان کیا کہ ماسکو اور کیف کے درمیان 314 جنگی قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ ان ممالک کے درمیان سہ فریقی سکیورٹی مشاورت کا پہلا دور 23 اور 24 جنوری کو ابوظہبی میں ہی ہوا تھا جس میں روسی وفد کی قیادت روسی مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے مرکزی ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ ایگور کوستیوکوف نے کی تھی۔