افغانستان میں طالبان رجیم کا جبر بے نقاب، انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں آشکار

افغانستان میں طالبان رجیم کا جبر بے نقاب، انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں آشکار

یوناما کی جنوری تا مارچ کی سہ ماہی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان رجیم میں افغان خواتین پر تعلیم، ملازمت اور آزادانہ نقل و حرکت کی پابندیاں پانچویں سال بھی برقرار ہیں، جبکہ افغانستان کے اروزگان، پکتیا، قندھار اور غزنی میں محرم کے بغیر خواتین کے علاج اور خریداری پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔

طالبان رجیم کے عام معافی کے دعوؤں کے برعکس سابق افغان فوجی اہلکار بدستور نشانے پر ہیں، ابتک 23 گرفتار، 9 پر بدترین تشدد اور 5 کے قتل کی تصدیق ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں سخت میڈیا سنسرشپ برقرارہے، رجیم کی پالیسیوں پر تنقید کے باعث ٹی وی ’راہِ فردا‘ کی نشریات تاحال معطل ہیں، افغان طالبان کے نئے فوجداری قوانین میں رجیم پر تنقید اور اختلافِ رائے کو قابلِ سزا جرم بنا دیا گیا ہے۔

عالمی ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم بنیادی آزادیوں کا گلا گھونٹ کر افغانستان میں خوف، خاموشی اور جبر کا نظام مسلط کیے ہوئے ہے، تاہم افغان طالبان رجیم کی سخت گیر پالیسیاں افغانستان کو انسانی بحران، عالمی تنہائی اور داخلی گھٹن کی طرف لے جارہی ہیں۔