اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان نئی جنگ بندی کے باوجود حملے، 5 لبنانی شہید

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان نئی جنگ بندی کے باوجود حملے، 5 لبنانی شہید

لبنانی میڈیا کے مطابق جنوبی لبنان کے علاقے نبطیہ میں اسرائیل نے فضائی اور ڈرون حملے کیے، حملے جنگ بندی نافذ ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی کیے گئے۔

اسرائیل کے ان حملوں میں رہائشی عمارتیں اور گھروں کو شدید نقصان پہنچا، اسرائیل اور حزب اللہ میں جنگ بندی معاہدہ جمعہ کو امریکا کی ثالثی میں طے پایا تھا۔

خیال رہے کہ لبنان پر اسرائیل کے مہلک حملوں نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات، جن کا مقصد معاہدے کو آگے بڑھانا اور مستقل تصفیے کی جانب پیش رفت کرنا تھا، لڑائی کے باعث مؤخر کر دیے گئے، آج پھر ایرانی اور امریکی وفود سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔

ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار نے خبردار کیا کہ تہران اپنی سرخ لکیروں سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور اس کی انگلی اب بھی ٹریگر پر ہے، تاہم آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہوتی دکھائی دی، جو جنگ کے دوران تقریباً بند ہو چکی تھی۔

اس ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا مقصد اس جنگ کا خاتمہ تھا، جو 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے۔

اس معاہدے کا مقصد لبنان میں جاری لڑائی کو روکنا بھی تھا، کیونکہ ایران ہمیشہ اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ لبنان کی صورتحال کسی بھی سمجھوتے کا حصہ ہونی چاہیے۔ اسی وجہ سے لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائیاں واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث بن رہی تھیں۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے لبنان میں حزب اللہ کے 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا اور ایران نواز تنظیم کے درجنوں ارکان کو ہلاک کیا۔

لبنان کے مطابق اسرائیلی حملوں میں جمعہ کے روز 47 افراد ہلاک اور 97 زخمی ہوئے، جبکہ اسرائیلی فوج نے اپنے چار فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی۔

ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکا اور قطر کی ثالثی سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان فوری جنگ بندی طے پا گئی ہے، ایک خلیجی سفارتکار نے بھی اس جنگ بندی کی تصدیق کی۔

اس کے باوجود جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی لبنانی سرکاری میڈیا نے جنوبی لبنان کے جزین علاقے میں ایک اسرائیلی فضائی حملے کی خبر دی جسے برطانوی نشریاتی ادارے نے بھی نشر کیا۔

اپریل میں ہونے والی سابقہ جنگ بندی بھی عملی طور پر حملوں کو روکنے میں ناکام رہی تھی، اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے چند گھنٹے قبل ہی کہا تھا کہ اسرائیلی فوج جب تک ضروری ہوا لبنان میں موجود رہے گی اور حزب اللہ کو اس کے حملوں کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے فوجیوں کی ہلاکت کے بعد کہا کہ پورا لبنان جل جانا چاہئے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسرائیل صرف مستقل جنگ چاہتا ہے۔