خلاصہ
- تہران: (دنیا نیوز) ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی ملک اب آبنائے ہرمز کو فوجی سازوسامان کی منتقلی کے لیے استعمال نہیں کر سکے گا۔
ایرانی فوج کے مطابق بعض ممالک برسوں سے آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تجارت اور تیل کی برآمدات جاری رکھتے رہے، لیکن حالیہ عرصے میں یہی ممالک ایران کے دشمنوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں۔
ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اس کا ساتھ دینے والے ممالک کو آئندہ آبنائے ہرمز عبور کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بیان کے مطابق ایران اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اس اہم بحری گزرگاہ پر سخت دفاعی اقدامات کرے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر مکمل دفاعی ناکہ بندی قائم نہ کی گئی تو دشمن دوبارہ ایرانی سرزمین پر حملے کی کوشش کر سکتا ہے، اس لیے قومی دفاع کے تقاضوں کے مطابق تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس گزرگاہ پر کسی بھی قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ عالمی توانائی کی رسد، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر فوری اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
ایرانی فوج کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے، جبکہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے بھی سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد مشرق وسطیٰ میں سمندری راستوں کی سلامتی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔