امریکا اور سعودی عرب کے درمیان جوہری معاہدے کا متن سامنے آگیا

امریکا اور سعودی عرب کے درمیان جوہری معاہدے کا متن سامنے آگیا

جوہری پروگرام کے بدلے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط کا ذکر نہیں، متن میں ریاض کے لئے 20 فیصد تک یورینیم افزودگی کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے۔

بی بی سی کے مطابق امریکی کانگریس کو بھیجی جانے والی دستاویز میں ابراہیمی معاہدوں کا کوئی ذکر نہیں، ریاض پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوئی پابندی نہیں، سعودی عرب کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے اضافی پروٹوکول میں شامل ہونے کا پابند بھی نہیں بنایا گیا۔

معاہدے کی شق 7 کے مطابق منتقل یا تیار کیا جانے والا یورینیم فریقین کی تحریری رضا مندی کے بعد افزودہ کیا جا سکے گا، فریقین مل کر افزودگی کے امکانات کا جائزہ لیں گے، شق کی دفعہ پانچ کے مطابق امریکی آلات اور ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی صورت میں یورینیم کی افزودگی کی حد پانچ فیصد ہو گی۔

معاہدہ سعودی عرب کو معائنوں کو قبول کرنے کا پابند بناتا ہے تاہم اضافی پروٹوکول میں شامل ہونا لازمی نہیں ہو گا۔

امریکا اور متحدہ عرب امارات کے جوہری معاہدے کا سعودی معاہدے سے تقابل واضح کرتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کو قابل ذکر رعایتیں دی ہیں۔