ماسکو میں عالمی مذہبی کانفرنس، پاکستان سمیت 40 ممالک کے وفود کی شرکت

ماسکو میں عالمی مذہبی کانفرنس، پاکستان سمیت 40 ممالک کے وفود کی شرکت

ماسکو کے پریزیڈنٹ ہوٹل میں منعقدہ کانفرنس کا عنوان ’’روس کے روایتی مذاہب، اتحاد کے استحکام اور معاشرتی ترقی میں کردار‘‘ تھا۔ کانفرنس کا اہتمام روحانی اجتماعِ مسلمینِ روس نے روسی حکومتی اداروں، سفارتی حلقوں اور سماجی تنظیموں کے تعاون سے کیا۔

پاکستان کی نمائندگی منہاج القرآن انٹرنیشنل کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ دنیا کو اس وقت جنگوں، نفرت، تقسیم اور عدم برداشت جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے مذہبی اور روحانی قیادت کو مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مذاہب کے درمیان مکالمہ صرف کانفرنسوں اور تقریبات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے معاشروں میں امن، انصاف، برداشت اور انسانی احترام کے فروغ کا عملی ذریعہ بنایا جانا چاہیے۔

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کا کہنا تھا کہ مختلف مذاہب کے درمیان باہمی احترام اور تعاون عالمی تنازعات کے پُرامن حل کی بنیاد بن سکتا ہے۔ مذہبی قائدین لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے قریب لانے اور نفرت کے بجائے محبت، برداشت اور مفاہمت کا پیغام عام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس میں مسلمانوں کو اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھنے اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے مواقع حاصل ہیں، جبکہ ایسی بین الاقوامی کانفرنسوں میں پاکستان کی شرکت دونوں ممالک کے عوام، مذہبی اداروں اور علمی حلقوں کو مزید قریب لانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور روس کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعاون کے ساتھ علمی، ثقافتی، تعلیمی اور مذہبی روابط کو بھی فروغ دینے کی ضرورت ہے، ان شعبوں میں تعاون دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط اور پائیدار بنا سکتا ہے۔

کانفرنس میں روحانی و اخلاقی اقدار کے تحفظ، بین المذاہب مکالمے، مذہبی اداروں اور ریاست کے درمیان تعاون، عالمی تنازعات کے پُرامن حل اور اسلامی تعاون تنظیم کے متعلقہ اداروں کے ساتھ روابط بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

شرکا نے غزہ اور ایران میں متاثر ہونے والے شہریوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے مزید جنگی کشیدگی اور شہری ہلاکتوں کی روک تھام کا مطالبہ کیا۔ مذہبی رہنماؤں نے تنازعات کو سفارتی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی۔

کانفرنس میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی گفتگو ہوئی۔ شرکا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو تعلیم، صحت، فلاحی سرگرمیوں اور سماجی ترقی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، تاہم انسانی فیصلوں، اخلاقی ذمہ داری اور مذہبی اقدار کو ٹیکنالوجی کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔

ماسکو کے مفتی اور روحانی اجتماعِ مسلمینِ روس کے سربراہ البیر حضرت کرگانوف نے خطاب میں کہا کہ پائیدار عالمی امن کا آغاز ہر ملک کے اندر موجود مختلف مذاہب، قومیتوں اور ثقافتوں کے درمیان اتفاق اور باہمی احترام سے ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس ایک کثیرالقومی اور کثیرالمذہبی ریاست ہے جہاں مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے افراد کئی صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ انہوں نے مذہبی مقدسات اور عبادت گاہوں کے تحفظ کو تمام مذاہب اور ریاستوں کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیا۔

کانفرنس کے اختتام پر 14 نکاتی قرارداد منظور کی گئی، جس میں مذہبی ہم آہنگی، روحانی اقدار کے تحفظ، عالمی تنازعات کے پُرامن حل اور ریاستی و مذہبی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔

منہاج القرآن انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر سہیل احمد اور ڈاکٹر زاہد علی خان نے بھی گفتگو کرتے ہوئے کانفرنس کی اہمیت اور عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت اور پُرامن تشخص کو اجاگر کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔

کانفرنس کے بعد ماسکو کے سرکاری کریملن محل میں ’’ایمان کی طاقت، قوموں کے اتحاد میں‘‘ کے عنوان سے خصوصی تقریب بھی منعقد ہوئی، جس میں روس میں اسلام کی تاریخی موجودگی، قومی یکجہتی اور بین المذاہب ہم آہنگی کو دستاویزی فلم اور ثقافتی پروگرام کے ذریعے اجاگر کیا گیا۔

یہ تقریبات روس میں عوامی اتحاد کے سال، روحانی اجتماعِ مسلمینِ روس کے قیام کی دسویں سالگرہ اور ماسکو مفتیات کی پندرہویں سالگرہ کے سلسلے میں منعقد کی گئیں۔