روس کیساتھ جنگ کی تیاری سے متعلق نیٹو کے بیانات پر نظر رکھے ہوئے ہیں، سرگئی لاوروف

روس کیساتھ جنگ کی تیاری سے متعلق نیٹو کے بیانات پر نظر رکھے ہوئے ہیں، سرگئی لاوروف

مشرقی تیمور کے وزیر خارجہ بینیڈیٹو فریتاس کے ساتھ مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس اپنی سلامتی کو لاحق ممکنہ خطرات سے پوری طرح آگاہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس کے لیے سب سے اہم بات خصوصی فوجی آپریشن کے دوران صدر پوتن کی جانب سے مقرر کردہ اہداف کے حصول کے لیے کام جاری رکھنا اور مغربی ہمسایہ ممالک کی جانب سے پیدا ہونے والے کسی بھی خطرے کو روکنا ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے نیٹو کی مشرقی سرحد کے دفاع سے متعلق منصوبے کی اطلاعات پر کہا کہ وہ اس معاملے کو فلسفیانہ انداز میں دیکھتے ہیں کیونکہ نیٹو ممالک آج ایک بات اور اگلے روز دوسری بات کرتے ہیں۔

سرگئی لاوروف نے کہا کہ صدر پوتن واضح کرچکے ہیں کہ کیلینن گراڈ یا روس کے کسی دوسرے علاقے پر حملے کی صورت میں ماسکو کا جواب کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ روسی صدر نے والڈائی فورم کے دوران کیلینن گراڈ پر ممکنہ حملے سے متعلق سوال کا نہایت واضح جواب دیا تھا اور کہا تھا کہ کیلینن گراڈ یا روس کے کسی بھی دوسرے خطے پر حملے کا ایک ہی جواب دیا جائے گا۔

مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ نے خطے میں عدم استحکام کی ذمہ داری مغربی ممالک پر عائد کی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے متعلق ماسکو فارمیٹ میں شامل روس کے دوست ممالک بھی خطے کے معاملات میں مغرب کی کھلی مداخلت کے سنگین اور تباہ کن نتائج کا سامنا کررہے ہیں۔

سرگئی لاوروف نے کہا کہ ایران کے گرد پیدا ہونے والی صورت حال کے عالمی معیشت پر منفی اثرات روس کے لیے گہری تشویش کا باعث ہیں۔ موجودہ کشیدگی پوری عالمی معیشت کو بھاری نقصان پہنچا رہی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ مصر، پاکستان، قطر اور سعودی عرب سمیت خطے کے متعدد ممالک کی ثالثی اور سفارتی کوششیں صورت حال کو سیاسی اور سفارتی دائرے میں رکھنے میں کامیاب ہوں گی۔

ایشیا بحرالکاہل کے حالات پر بات کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا، بعض یورپی ممالک، آسٹریلیا اور جاپان خطے میں تین یا چار ممالک پر مشتمل بند اتحاد بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ کوشش آسیان کے اس بنیادی تصور کے خلاف ہے جو جامع شمولیت اور اتفاق رائے پر قائم ہے۔ اس رجحان پر صرف روس ہی نہیں بلکہ آسیان کے متعدد رکن ممالک کو بھی تشویش ہے اور وہ تنظیم کے بنیادی اصولوں کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

افغانستان سے متعلق ماسکو فارمیٹ کے آٹھویں اجلاس میں مشترکہ اعلامیہ منظور نہ ہونے پر سرگئی لاوروف نے کہا کہ یہ ایک ناخوشگوار پیش رفت ضرور ہے، تاہم اسے غیر معمولی اہمیت نہیں دینی چاہیے کیونکہ ایسے نتیجے کی توقع پہلے سے موجود تھی۔

انہوں نے کہا کہ روس کو اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان اور افغانستان دونوں اپنے باہمی تعلقات معمول پر لانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ماسکو دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود اور نئے پیدا ہونے والے مسائل کے حل میں مدد کے لیے اپنی پوری کوشش کررہا ہے۔

مشرقی تیمور کے ساتھ تعاون کے حوالے سے سرگئی لاوروف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات میں ابھی محدود پیش رفت ہوئی ہے، تاہم توانائی، کان کنی، ماہی گیری اور سیاحت میں مشترکہ سرمایہ کاری کے امید افزا امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روسی کمپنیاں مشرقی تیمور کو توانائی کی فراہمی بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔ روس مشرقی تیمور کے ماسکو میں سفارت خانہ کھولنے کے منصوبے کا بھی خیرمقدم کرتا ہے اور اس سلسلے میں باضابطہ درخواست موصول ہونے پر ہر ممکن معاونت فراہم کرے گا۔