خلاصہ
- ماسکو: (شاہد گھمن سے) کریملن نے خبردار کیا ہے کہ لیتھوانیا میں نیٹو کے فوجی اڈے اور جوہری ہتھیاروں کی ممکنہ تعیناتی یورپ میں کشیدگی میں ایک اور نمایاں اضافے کا باعث بنے گی، جس کے جواب میں روس اپنی سلامتی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا کہ لیتھوانیا میں نیٹو اڈے یا جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی سے یورپی براعظم میں استحکام اور حالات کے قابل پیش گوئی رہنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس ایسی پیش رفت کشیدگی میں ایک اور سنگین اضافے کا باعث بنے گی اور روس اپنی قومی سلامتی کی ضمانت کے لیے تمام ضروری جوابی اقدامات کرنے پر مجبور ہوگا۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن کی سالانہ پریس کانفرنس اور عوام کے ساتھ براہ راست سوال و جواب کے پروگرام کے بارے میں دیمتری پیسکوف نے بتایا کہ دونوں پروگرام اس سال بھی مشترکہ طور پر منعقد کیے جائیں گے۔
ان کے مطابق گزشتہ سال اور اس سے پہلے کے برسوں کی طرح صدر پوتن کی سالانہ پریس کانفرنس اور عوام کے سوالات پر مشتمل ’’ڈائریکٹ لائن‘‘ ایک ہی تقریب میں منعقد ہوگی، جبکہ کریملن نے اس پروگرام کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔
صدر پوتن کی 74 ویں سالگرہ کے حوالے سے کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ روسی صدر 7 اکتوبر کو متعدد بین الاقوامی ٹیلی فونک رابطے اور دیگر مصروفیات انجام دیں گے۔
دیمتری پیسکوف نے کہا کہ صدر پوتن کے لیے ان کی سالگرہ کا دن بھی شاذونادر ہی مکمل طور پر تقریبات تک محدود رہتا ہے۔ روسی صدر کے طے شدہ بین الاقوامی رابطوں میں ان کی سالگرہ کے حوالے سے ہونے والی گفتگو بھی شامل ہوگی۔
ارکتسک ریجن میں نامعلوم نوعیت کے نمونیا کے معاملے پر دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس کا صحت و صفائی کا نگران ادارہ روسپوتریب نادزور علاقے کی وبائی صورت حال کے بارے میں تفصیلی معلومات جاری کررہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ضرورت پڑنے پر روس کو مدد فراہم کرنے کی پیشکش سے متعلق سوال پر کریملن کے ترجمان نے کہا کہ ایک دوسرے کو باہمی مدد کی پیشکش کیا جانا اچھی بات ہے۔
جرمنی کی جانب سے روس پر مبینہ طور پر ’’شیڈو وار‘‘ کرنے کے الزام کو دیمتری پیسکوف نے مکمل طور پر بے بنیاد اور ٹھوس دلائل سے محروم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ روس ماضی میں بھی ایسے الزامات بار بار سن چکا ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کی بیان بازی ایک میڈیا حربہ ہے جس کا مقصد ایک فرضی دشمن کا تصور پیدا کرکے عسکری اخراجات میں اضافے کا جواز فراہم کرنا ہے۔