اسرائیل کو خانہ جنگی یا مکمل ریاستی خاتمے کا سامنا ہوسکتا ہے، سی آئی اے رپورٹ

اسرائیل کو خانہ جنگی یا مکمل ریاستی خاتمے کا سامنا ہوسکتا ہے، سی آئی اے رپورٹ

رپورٹ کے مطابق ’’فریکچر فرام وِد اِن‘‘ کے عنوان سے یہ جائزہ اگست میں تیار کیا گیا تھا، ڈراپ سائٹ نیوز نے اس کی تفصیلات سے واقف دو امریکی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سی آئی اے کے ریڈ سیل نے اسرائیل میں بڑھتی ہوئی سیاسی، اقتصادی اور سماجی تقسیم کا جائزہ لیا۔

جائزے کے مطابق غزہ، لبنان اور ایران میں جاری جنگوں نے اسرائیل کے اندر موجود اختلافات کو مزید گہرا کیا ہے، جبکہ طویل جنگوں سے واپس آنے والے فوجیوں میں شدید نفسیاتی دباؤ بھی داخلی صورتحال پر اثرانداز ہو رہا ہے۔

رپورٹ میں فوجی خدمات سے متعلق تنازع کو بھی اسرائیل میں اہم داخلی اختلاف قرار دیا گیا ہے۔ طویل عرصے سے فوجی خدمات سے مستثنیٰ الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کے معاملے پر ریزرو فوجیوں اور معاشرے کے دیگر طبقات میں ناراضی بڑھنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

جائزے میں اسرائیل کی معاشی مشکلات، بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات، وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی اقتدار برقرار رکھنے کی کوششوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی و آئینی کشیدگی کو بھی عدم استحکام کے عوامل میں شامل کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد اور اسرائیل کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی بھی داخلی بحران کو مزید گہرا کرسکتی ہے۔ امریکا میں اسرائیل کے لیے کم ہوتی حمایت کو بھی ممکنہ عدم استحکام کی ایک وجہ قرار دیا گیا ہے۔

ڈراپ سائٹ نیوز کے مطابق سی آئی اے نے رپورٹ کے حوالے سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ تاہم یہ جائزہ عوامی سطح پر دستیاب نہیں، اس لیے اس کی مکمل آزادانہ تصدیق ممکن نہیں؛ رپورٹ کی تفصیلات دو امریکی ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔