دنیا
خلاصہ
- ماسکو: (شاہد گھمن) روس کے ارکتسک ریجن میں انسدادِ طاعون تحقیقی ادارے کی ایک ملازمہ کی نامعلوم وجہ سے ہونے والے نمونیا کے باعث موت کے بعد عالمی ادارہ صحت نے روسی حکام سے مزید تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت میڈیا میں آنے والی ان غیر مصدقہ اطلاعات کی بھی وضاحت چاہتا ہے جن میں تحقیقی ادارے کے ایک اور ملازم کو نامعلوم نوعیت کا نمونیا ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے تاہم روسی حکام نے طاعون کے کسی دوسرے مشتبہ یا تصدیق شدہ کیس کا اعلان نہیں کیا۔
روسپوتریب نادزور کے مطابق مرنے والی خاتون اور اس سے رابطے میں آنے والے افراد کے تفصیلی ٹیسٹ کئے گئے، رابطے میں رہنے والے افراد میں دو کووڈ 19 اور دو رائنو وائرس کے کیس سامنے آئے، تاہم کسی شخص میں طاعون یا کوئی دوسرا خطرناک جرثومہ نہیں پایا گیا۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال قابو میں ہے اور کسی وبا کا خطرہ موجود نہیں، کریملن نے بھی شہریوں اور میڈیا سے کہا ہے کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات کے بجائے روسپوتریب نادزور کے سرکاری اعدادوشمار پر انحصار کریں۔