خلاصہ
- تہران: (دنیا نیوز) ایران نے امریکا پر مذاکرات میں یکطرفہ مطالبات مسلط کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سفارت کاری کیلئے تیار ہے تاہم کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جرمن نشریاتی ادارے اے آر ڈی کو انٹرویو میں کہا کہ ایرانی عوام کو امریکا پر اعتماد نہیں اور ملک کے دفاع کیلئے پوری قوت کے ساتھ تیار رہنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے کبھی مذاکرات کی میز نہیں چھوڑی اور نہ ہی سفارت کاری کے دروازے بند کیے ہیں، ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم امریکا ایران سے مکمل سرنڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، جسے کوئی ایرانی قبول نہیں کرے گا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ مذاکرات کے دوران ایک سال سے بھی کم عرصے میں ایران پر دو حملوں نے ثابت کیا کہ واشنگٹن سفارت کاری کے حوالے سے سنجیدہ نہیں، اس کے باوجود تہران امن کے حصول کیلئے سفارتی ذرائع استعمال کرنے اور کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یورپی یونین نے امریکا کے ساتھ چلنے کو ترجیح دی حالانکہ عالمی برادری اس سے آزاد اور مؤثر کردار کی توقع رکھتی تھی، جوہری معاملے پر یورپ نے اپنا تعمیری کردار ترک کرکے واشنگٹن کا ساتھ دیا۔