خلاصہ
- واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملے کی دھمکی نے خلیجی ممالک کو ایک نئی جنگ کے خدشات سے دوچار کردیا کیونکہ خطے میں قائم امریکی فوجی اڈے ممکنہ طور پر ایرانی جوابی کارروائیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔
ایران کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں اور خلیجی توانائی تنصیبات پر میزائل حملوں نے امریکی سکیورٹی نظام کی کمزوریوں کو نمایاں کردیا ہے، ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ایک اور فوجی آپریشن شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
چار یورپی حکام کے مطابق امریکا نے خطے میں اتنی فوجی قوت اور سازوسامان جمع کرلیا ہے کہ وہ مختصر نوٹس پر ایران کو نشانہ بنا سکتا ہے، ایک یورپی عہدیدار نے خدشہ ظاہر کیا کہ جنگ قریب ہے، تاہم کوئی بھی اس کا حامی نہیں۔
رپورٹ کے مطابق ممکنہ امریکی حملوں میں ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، تاہم ایسے حملے ایران کی جوہری صلاحیت کو کمزور تو کرسکتے ہیں لیکن اسے مکمل طور پر ختم کرنا مشکل ہوگا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران نے کسی نئے امریکی اور اسرائیلی حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کے لیے اہداف کی فہرستیں تیار کر رکھی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران امریکا اور اسرائیل کا براہ راست فوجی مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تاہم اس کی حکمت عملی طویل جنگ کے ذریعے امریکی فوجی موجودگی کو مہنگا اور مشکل بنانا ہے۔