خلاصہ
- واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے دیہی علاقوں میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے ان ریاستوں اور انتخابی حلقوں میں بھی ریپبلکنز کو شکست دے دی جو طویل عرصے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے تھے۔
رائٹرز کے مطابق آئیووا، کنساس، ٹیکساس اور وسکونسن سمیت متعدد ریاستوں میں ڈیموکریٹس نے کانگریس اور گورنر کے عہدوں پر کامیابی حاصل کی۔
ان کامیابیوں کی بڑی وجہ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیوں اور ایران جنگ کے باعث ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے کسانوں اور دیہی آبادی کو درپیش معاشی مشکلات بتائی جا رہی ہیں۔
ڈیموکریٹس نے گزشتہ کئی برسوں سے دیہی علاقوں میں اپنی سیاسی سرگرمیاں بڑھانے، مقامی سطح پر تنظیم سازی اور انتخابی مہم کو وسعت دینے پر کام کیا، پارٹی نے صرف چند اہم ریاستوں پر توجہ دینے کے بجائے ملک بھر میں امیدوار کھڑے کرنے اور انتخابی مہم چلانے کی حکمت عملی اپنائی۔
وسکونسن میں کامیاب ڈیموکریٹک امیدوار ریبیکا کوک نے اپنی انتخابی مہم کے دوران 54 ہزار گھروں کے دروازوں پر دستک دی جبکہ آئیووا میں امیدوار کرسٹینا بوہانن نے 11 ماہ تک ہر ہفتے دیہی علاقوں میں انتخابی رابطہ مہم جاری رکھی۔
دیہی علاقوں میں ٹرمپ کی مقبولیت میں بھی نمایاں کمی آئی، کنساس میں بھی ڈیموکریٹس نے طویل المدتی تنظیم سازی اور مقامی سطح پر رابطوں کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔