برطانیہ کی اپیل کورٹ نے شامی پناہ گزین کے معاملے میں حکومتی قانونی غلطی کی نشاندہی کردی

برطانیہ کی اپیل کورٹ نے شامی پناہ گزین کے معاملے میں حکومتی قانونی غلطی کی نشاندہی کردی

برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق عدالتی فیصلے کے بعد برطانیہ پہنچنے کے دوران تاوان کے لیے یرغمال بنائے جانے والے پناہ گزین بھی انسانی اسمگلنگ کے متاثرین کے لیے مختص سرکاری امداد اور بحالی کی سہولیات کے اہل قرار پاسکتے ہیں۔

مقدمہ ایک شامی شہری نے دائر کیا تھا، جو 2021ء میں سابق صدر بشارالاسد کے دور میں جبری فوجی بھرتی سے بچنے کے لیے شام چھوڑ کر لیبیا پہنچا تھا۔ وہاں مسلح افراد نے اسے اور دیگر شامی پناہ گزینوں کو اغوا کرکے قید کرلیا، تشدد کا نشانہ بنایا اور رہائی کے بدلے تاوان طلب کیا۔

بعدازاں متاثرہ شامی شہری یورپ کے راستے مئی 2022 میں ایک چھوٹی کشتی کے ذریعے برطانیہ پہنچا اور سیاسی پناہ کی درخواست دائر کردی۔

برطانوی محکمہ داخلہ نے ابتدائی طور پر مؤقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ اسے اغواکاروں کے لیے کام کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا، اس لیے اسے انسانی استحصال یا اسمگلنگ کا متاثرہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

تاہم اپیل کورٹ نے حکومتی مؤقف میں قانونی غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے معاملے کو انسانی اسمگلنگ اور استحصال کے قوانین کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت واضح کردی۔