بلاول کی گندم کی امدادی قیمت 1800 روپے مقرر کرنے پر وفاقی حکومت پر کڑی تنقید

بلاول کی گندم کی امدادی قیمت 1800 روپے مقرر کرنے پر وفاقی حکومت پر کڑی تنقید

اپنے ایک بیان میں چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ سندھ میں کسانوں پر ظلم نہیں ہونے دوں گا اور امدادی قیمت دوہزار روپے من رہے گی۔ وفاقی حکومت کے گندم کی امدادی قیمت میں 28 فیصد اضافے کے مقابلے میں سندھ نے 42 فیصد اضافہ کیا۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بیرون ملک سے 2750 روپے میں گندم خرید کر ملکی کسانوں کو 1800 روپے کی امدادی قیمت دینا کھلا مذاق ہے، وفاقی حکومت نے تین سالوں میں گندم کے دو بحران پیدا کئے ہیں، عمران خان اپنے سرمایہ دار دوستوں سے پوچھیں کہ گندم افغانستان اسمگل کرکے مصنوعی بحران کیسے پیدا ہوا، انہیں سارے سوالات کے جواب مل جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کی ناقص منصوبہ بندی کے باعث ملک میں صرف دو سے ڈھائی ہفتوں کی گندم کا ذخیرہ رہ گیا۔ بولے پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت نے ملک کو گندم کے معاملے میں خود کفیل بنانے کیلئے پہلے سال امدادی قیمت میں 47 فیصد اور دوسرے سال 52 فیصد اضافہ کیا تھا۔