کے الیکٹرک کا غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی یقین دہانی کرانے سے انکار

کے الیکٹرک کا غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی یقین دہانی کرانے سے انکار

کے الیکٹرک کے نمائندوں نے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کی یقین دہانی کرانے سے انکار کیا تو کمیٹی ارکان نے انہیں کمرے سے باہر نکال دیا۔

اجلاس میں کے الیکٹرک نیپرا، سیپکو اورحیسکو کے نمائندے اجلاس میں شریک ہوئے، پیپلز پارٹی کے رکن آصف خان نے کہا طویل لوڈ شیڈنگ کے باعث عوام نفسیاتی مریض بن گئے ہیں، بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے، مناسب جوابات نہ ملنے پر ارکان کے کے الیکٹرک حکام سے بحث بھی ہوئی۔

اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کے افسران نہ جانے کیوں میڈیا کے کیمروں سے ڈرتے ہیں، سی ای او نہیں آتے تو اگلا اجلاس ہم کے الیکٹرک کے ہیڈ آفس کے سامنے کریں گے۔

پیپلزپارٹی کی رکن سعدیہ جاوید نے مطالبہ کیا کے الیکٹرک بجلی کی طلب اور رسد کے حوالے سے اعدادو شمار بتائے، کے الیکٹرک کے چیف ڈسٹری بیوشن آفیسر علی کمال نے اعداد شمار دینے سے معذرت کرلی۔

خصوصی کمیٹی نے کے الیکٹرک کے نمائندوں سے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کا مطالبہ کیا، علی کمال نے کہا میں بحیثیت فرد واحد لوڈشیڈنگ کے خاتمے سے متعلق کوئی کمٹمنٹ نہیں کر سکتا جس پر کمیٹی نے کے الیکٹرک کے نمائندوں کو اجلاس سے باہر نکال دیا۔

اجلاس میں ہیسکو اور ایپکو کی جانب سے لوڈ شیڈنگ میں کمی کی یقین دہانی کروائی گئی۔