پیپلزپارٹی کی قیادت اپنے وزرا کو لگام دے: علی خورشیدی

پیپلزپارٹی کی قیادت اپنے وزرا کو لگام دے: علی خورشیدی

شہرِ قائد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ موجودہ گورننس ماڈل ڈیلیور کرنے میں ناکام ہوچکا ہے، کراچی میں گٹروں کے ڈھکن نہ ہونے کے باعث اموات ہورہی ہیں اور پیپلزپارٹی کو اقتدار جاتا ہوا نظر آرہا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ وفاق سے سندھ کو 20 ہزار ارب روپے سے زائد رقم آچکی ہے، اس کے باوجود کراچی کا شمار دنیا کے تیسرے بدترین شہروں میں ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ گورننس ماڈل عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔

اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی جمہوری نظام میں عوام کو بااختیار بنانے کے لیے تیار نہیں، ایم کیو ایم 2014 سے نئے صوبوں کا مطالبہ کر رہی ہے اور آج پورے پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کے حوالے سے بات ہورہی ہے، تاہم پیپلزپارٹی نے انتظامی مسئلے کو لسانی مسئلہ بنا دیا ہے۔

علی خورشیدی نے پیپلزپارٹی کے وزرا کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی وزرا سیاسی چھچھورپے پن کا مظاہرہ کررہے ہیں، سعید غنی کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا سیاسی قد ہماری قیادت کے خلاف بات کرنے کا نہیں، انہیں متنبہ کرتا ہوں کہ ہماری قیادت کے بارے میں بات نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے سوال کیا کہ اگر پیپلزپارٹی کو ایم کیو ایم سے اختلاف تھا تو صدر پاکستان اور چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں ایم کیو ایم کا ووٹ کیوں لیا گیا؟ پیپلزپارٹی والے لوگوں کو ماموں بنانا بند کریں۔

اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی کا کہنا تھا کہ ہماری قیادت کے خلاف بات کی گئی تو ہم بھی جواب دیں گے، پیپلزپارٹی کی قیادت اپنے وزرا کو لگام دے، سندھ کے عوام کے حقوق سلب کیے جارہے ہیں، پیپلزپارٹی کو سندھ سے نہیں بلکہ سندھ حکومت سے انٹرسٹ ہے۔

علی خورشیدی نے مزید کہا کہ ان کی جماعت نے سندھ کو آزاد کرانا ہے، پیپلزپارٹی والے پریشان نہ ہوں، ابھی تو ہلکی آنچ ہے، پیپلزپارٹی کے اقتدار کے خاتمے کی پریشانی بڑھ رہی ہے جبکہ صوبائی حکومت کا گورننس ماڈل فیل ہوچکا ہے۔