پاکستان میں انشورنس پینیٹریشن جی ڈی پی کا صرف 0.7 فیصد ہے: سی سی پی

پاکستان میں انشورنس پینیٹریشن جی ڈی پی کا صرف 0.7 فیصد ہے: سی سی پی

چیئرمین سی سی پی فرید احمد نے کہا کہ پاکستان میں انشورنس کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں، مؤثر کمپٹیشن سے انشورنس سیکٹر میں جدت، بہتر خدمات اور صارفین کو زیادہ انتخاب مل سکتا ہے۔

سی سی پی کے مطابق پاکستان میں 44 انشورنس کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جن میں 36 روایتی انشورنس کمپنیاں، 7 تکافل آپریٹرز اور ایک ری انشورنس کمپنی شامل ہے۔

پاکستان میں انشورنس پالیسیوں کی تعداد تقریباً ایک کروڑ 4 لاکھ ہے۔

سی سی پی کے مطابق مارکیٹ کا ارتکاز اور نئی کمپنیوں کے داخلے میں رکاوٹیں انشورنس سیکٹر کے اہم مسابقتی چیلنجز ہیں، جبکہ بینک اشورنس میں ارتکاز، کم عوامی آگاہی اور معلومات کا عدم توازن بھی اہم چیلنجز قرار دیئے گئے ہیں۔

سی سی پی اجلاس میں کہا گیا کہ کلیمز کے تنازعات اور ادائیگی میں تاخیر صارفین کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے، لازمی انشورنس کے مؤثر نفاذ سے انشورنس مارکیٹ کو وسعت دی جا سکتی ہے۔

اجلاس میں زرعی انشورنس کا دائرہ وسیع کرنے اور رسک بیسڈ سالوینسی فریم ورک اپنانے پر زور دیا گیا، جبکہ انشورنس بل 2026ء پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔