خلاصہ
- (محمد علی) وادی سندھ کی قدیم تہذیب جسے ہڑپہ تہذیب یا انڈس ویلی سویلائزیشن بھی کہا جاتا ہے، برصغیر کی سب سے قدیم، منظم اور شہری تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ تہذیب نہ صرف اپنی وسعت، منصوبہ بندی اور تجارتی روابط کے باعث عالمی ماہرین کی توجہ کا مرکز رہی ہے بلکہ انسانی تاریخ میں شہری زندگی کے ارتقا کو سمجھنے کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
ہڑپہ کی تہذیب تقریباً 2600 قبل مسیح سے 1900 قبل مسیح تک اپنے تمام تر عروج کے ساتھ موجود رہی۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اُس زمانے میں دنیا کی دیگر عظیم شہری تہذیبیں جیسا کہ میسوپوٹیمیا اور مصربھی اپنے ابتدائی مراحل میں تھیں۔ ہڑپہ والوں نے شہروں کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تعمیر کرنے کا تصور دنیا کو دیا۔
سیدھی گلیاں، نکاسی آب کا منظم نظام، مضبوط اینٹوں کی عمارتیں، کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے کے طریقے اور تجارتی گودام جیسے ڈھانچے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ تہذیب ایک ترقی یافتہ نظامِ حکومت اور مؤثر تنظیم رکھتی تھی۔ہڑپہ کی مہر، برتن سازی، دھات کاری، وزن و پیمائش کے معیاری نظام اور دور دراز تجارتی روابط اس کی علمی و فنی ترقی کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ تہذیب نہ صرف معاشی طور پر مستحکم تھی بلکہ سماجی طور پر بھی منظم اور پرامن دکھائی دیتی ہے کیونکہ اب تک ایسے شواہد بہت کم ملے ہیں جو جنگوں یا بڑے پیمانے پر تباہی کی طرف اشارہ کرتے ہوں۔
تہذیب کے ادوار
ماہرینِ آثارِ قدیمہ ہڑپہ تہذیب کو عام طور پر تین بڑے ادوار میں تقسیم کرتے ہیں: ابتدائی ہڑپہ دور (3300-2600 قبل مسیح)اس دور میں چھوٹے چھوٹے دیہات وجود میں آئے جو آہستہ آہستہ بڑے، منظم قصبوں میں تبدیل ہوئے۔ مٹی کے برتن، دھات کاری، کاشتکاری اور تجارت کے ابتدائی شواہد اسی دور سے ملتے ہیں۔ یہ دور زیادہ تر تجربات اور مقامی ترقیات کا زمانہ تھا، جس نے بعد کے شہری تمدن کی بنیاد رکھی۔-2 عہدِ عروج (2600-1900 قبل مسیح)ہڑپہ تہذیب کا سنہری دور تھا۔
ہڑپہ اور موہنجوداڑو جیسے بڑے شہر اسی زمانے میں اپنی بلند ترین سطح پر تھے۔ یہ شہر سیدھی گلیوں، کشادہ مکانوں، نکاسی آب کے بہترین نظام اور اناج گوداموں پر مشتمل تھے۔ وزن پیمائش کا معیاری نظام اس دور کی سب سے نمایاں خصوصیت ہے۔ اسی دور میں ہڑپہ تہذیب نے بیرونی دنیا سے بھی مضبوط تجارتی روابط قائم کیے، خصوصاً میسوپوٹیمیا کے ساتھ۔پوسٹ ہڑپہ دور (1900-1300 قبل مسیح)یہ دور زوال اور تبدیلیوں کا زمانہ تھا۔
شہروں کی آبادی کم ہوتی گئی، بڑے کارخانے اور تجارتی مراکز ختم ہونا شروع ہوئے اور لوگ شہروں سے دیہات یا چھوٹے بستیوں میں منتقل ہونے لگے۔ فنِ تعمیر میں بھی معیار گِر گیا اور معیاری اینٹوں کی جگہ کم معیار کی اینٹیں استعمال ہونے لگیں۔
ہڑپہ تہذیب کے اثرات
ہڑپہ تہذیب کے اثرات برصغیر کی بعد کی تہذیبوں اور معاشرت میں واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں:
شہری منصوبہ بندی پر اثرات
آج پاکستان اور بھارت میں ملنے والی کئی قدیم بستیوں کا طرزِ تعمیر ہڑپہ کے نقش قدم کا تسلسل دکھاتا ہے۔ سیدھی گلیاں، چوک، قلعہ نما حصے اور رہائشی و تجارتی علاقوں کی تقسیم ہڑپہ کی یاد دلاتی ہے۔
زراعت اور تجارت پر اثرات
گندم، جو، کپاس اور تِل کی کاشت ہڑپہ دور میں ترقی کر چکی تھی۔ تجارت کے لیے مہر، وزن اور معیاری پیمائش کا طریقہ بعد کی تہذیبوں تک منتقل ہوا جو آج بھی جنوبی ایشیا کے کئی روایتی بازاروں میں نظر آتا ہے۔
زبان اور ثقافت
اگرچہ ہڑپہ کی تحریر ابھی تک پڑھنے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی تاہم ماہرین کے خیال میں اس کے کچھ ثقافتی اثرات ویدک دور تک پہنچے۔ مذہبی علامات، مہر پر بنے جانوروں اور مقدس نشانوں نے بعد کی مذہبی علامتوں پر بھی اثر ڈالا۔
ہنر اور دستکاری
برتن سازی، زیورات، تانبا اور کانسی استعمال کرنے کی تکنیک، کپاس کی بُنائی اور مہر سازی کے ہنر نے جنوبی ایشیائی دستکاری کی بنیاد رکھی۔
تہذیب کے خاتمے کے اسباب
ہڑپہ تہذیب کے اچانک زوال کے بارے میں مختلف نظریات پیش کیے گئے ہیں لیکن زیادہ تر ماہرین موسمیاتی تبدیلی،معاشی اور تجارتی زوال،نقل مکانی اور داخلی تبدیلیوں کے اسباب پر متفق ہیں۔دریائے ہاکڑہ (جسے آج خشک نارا ، گھاگھرا اور سرسوتی بھی کہا گیاہے) کے سوکھنے اور موسمیاتی تبدیلی کے سبب دریاؤں کے بہاؤ میں تبدیلی نے زراعت کو شدید نقصان پہنچایا۔
بارشوں میں کمی اور خشک سالی نے خوراک کی پیداوار کم کر دی جس کا براہِ راست اثر آبادی پر پڑا۔میسوپوٹیمیا اور دیگر علاقوں کے ساتھ تجارت میں کمی نے ہڑپہ کی معیشت کو کمزور کیا۔ بڑے پیمانے پر صنعتوں کی بندش نے شہروں کی اہمیت کو کم کر دیا۔ خوراک کی قلت اور دریاؤں کے رخ بدلنے کے باعث لوگ ہرے بھرے خطوں کی طرف منتقل ہونے لگے اس سے بڑے شہر آہستہ آہستہ خالی ہو گئے۔
کچھ ماہرین کے مطابق سیاسی یا انتظامی نظام کا کمزور ہونا بھی زوال کی ایک وجہ ہو سکتا ہے، اگرچہ اس کے واضح شواہد کم ملتے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ ہڑپہ تہذیب کا خاتمہ اچانک یا کسی جنگ کے نتیجے میں نہیں ہوا۔ یہ ایک طویل اور تدریجی عمل تھا۔