خلاصہ
- لاہور: (دنیا نیوز)پاکستان کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ بابر اعظم انجرڈ اور فخر زمان انجرڈ ہیں، تحقیقات کرائیں گے کہ کیسے دو پلیئرز ورلڈ کپ کے فوری بعد انجرڈ ہو گئے۔
لاہور میں قومی سلیکشن کمیٹی کی پریس کانفرنس ہوئی جس میں عاقب جاوید نے کہا کہ یہ جاننا ہے کہ کیا وہ ایونٹ کے دوران ہی انجری کا شکار ہوئے، ورلڈ کپ سے بڑی امیدیں تھیں مگر ہم اس طرح پرفارم نہیں کرسکےجیسا کرنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں امید تھی کہ سیمی فائنل میں پہنچیں گے لیکن ایسا نہیں ہو سکا، یہ طے ہے پلیئنگ الیون کوچ اور کپتان کی ذمےداری ہے، ہمیں کوئی شوق نہیں کہ ہم یہاں بیٹھ کر 11 پلیئرز کا فیصلہ کریں۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے عاقب جاوید نے کہا کہ یہ آزادی کوچ اور کپتان کو ہونی چاہیے انہوں نے گراونڈ میں لڑانا ہوتا ہے، ورلڈ کپ کی پلئینگ الیون کا حق کپتان اور کوچ کو ہونا چاہیے تھا اور یہ وہی بتا سکتے ہیں کہ کون کیوں نہیں کھیلا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان آسٹریلیا میں ون ڈے سیریز جیتا، میں بھی 3سے4ماہ کوچ رہا، سلیکشن کے وقت کوچ کو بھی ساتھ بٹھایا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ ورلڈکپ سے پہلےہونا چاہئے تھا، سلیکٹرزنیشنل ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں کھلاڑیوں کی پرفارمنس دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ 3طرح کی ہے، کسی کو ایک پرفارمنس پرٹیم میں شامل نہیں کرسکتے اورنہ نکال سکتے ہیں، میچ کیلئے کنڈیشن کے مطابق کوچ اورکپتان ہی کھلاڑیوں کا انتخاب کرتے ہیں۔
دوسری جانب سرفراز احمد نے کہا کہ تین چار وکٹ کیپرز پائپ لائن میں ہیں جن میں حسیب اللہ اور روحیل نذیر بھی شامل ہیں جبکہ غازی غوری کی حالیہ فارم اچھی رہی ہے ڈویلپمنٹ کے طور پر غازی غوری اچھا آپشن تھے، شامل حسین کی ڈومیسٹک پرفارمنس شاندار رہی ہیں۔
قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن مصباح الحق نے کہا کہ یہ دیکھنا ہے کہ پاکستان کو کہاں کسپلیئر کی ضرورت ہے، میرے پاس اس وقت جو ذمہ داری ہے اسی پر فوکس ہے۔
مصباح الحق نے کہا کہ جب بھی موقع ملتا ہے تو کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچاوں، کپتانی میں غلطیاں ہوئی ہیں لیکن غلطیاں کھیل کا حصہ ہے۔