ٹھٹھہ میں واقع شاہ جہاں مسجد مغل فنِ تعمیر کا انوکھا شاہکار

ٹھٹھہ میں واقع شاہ جہاں مسجد مغل فنِ تعمیر کا انوکھا شاہکار

مسجد کو مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے 17 ویں صدی (1644ء سے 1647عیسوی) میں سندھ کے لوگوں کیلئے بطور تحفہ تعمیر کروایا تھا۔

400 سال پرانی مسجد کے گنبدوں کی تعداد سے متعلق کہا جاتا ہے کہ عام مغل مساجد کے برعکس اس مسجد میں کوئی روایتی مینار نہیں ہے بلکہ یہ 99 گنبدوں پر مشتمل دنیا کی سب سے بڑی مسجد ہے۔

تاریخی مسجد کی منفرد طرزِ تعمیر، گنبدوں کی حیرت انگیز ترتیب اور آواز کی گونج سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے، اس قدیمی مسجد کے حوالے سے کئی دلچسپ روایات اور فنِ تعمیر کے ایسے نمونے موجود ہیں جو آج بھی دیکھنے والوں کو حیران کر دیتے ہیں۔

مسجد کے گنبدوں کی تعداد گننے کے حوالے سے بھی ایک دلچسپ بات مشہور ہے، بعض مقامات سے گننے پر گنبدوں کی تعداد 100 بنتی ہے، جبکہ دوسری سمت سے گنتی کی جائے تو یہ تعداد 99 رہ جاتی ہے۔

مقامی افراد کے مطابق یہ عمارت بنانے والے ماہرین کی فن کاری اور تعمیراتی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔

مسجد کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کا صوتی نظام ہے، بتایا جاتا ہے کہ مسجد کے ایک حصے میں کھڑے ہو کر محراب کے قریب آہستہ آواز میں بات کی جائے تو وہ آواز دور دوسرے حصے میں بھی واضح طور پر سنی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق عمارت کے ڈیزائن میں ایسی ساخت اختیار کی گئی ہے جس سے آواز ٹکرا کر گونج پیدا کرتی ہے اور مسجد کے مختلف حصوں تک پہنچتی ہے، اس منفرد صوتی خصوصیت کیلئے کسی جدید لاؤڈ سپیکر یا ساؤنڈ سسٹم کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

تاریخی اہمیت کی حامل اس مسجد کو وقت گزرنے کے ساتھ مختلف ادوار میں دیکھ بھال اور بحالی کے مراحل سے بھی گزارا گیا۔

روایت کے مطابق سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بھی تاریخی عمارت کی حالت بہتر بنانے اور اس کے تحفظ پر توجہ دی گئی، اس کے علاوہ مسجد کی وسیع گنجائش بھی اسے نمایاں بناتی ہے، بتایا جاتا ہے کہ یہاں 40 سے 50 ہزار افراد بیک وقت جمعہ کی نماز ادا کرسکتے ہیں۔

جہاں دیگر مغل عمارات میں لال پتھر اور سفید سنگِ مرمر استعمال ہوا، وہیں ٹھٹھہ کی اس مسجد میں چمکدار نیلی اور سفید ٹائلوں کا بے مثال کام کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ خوبصورت کاشی کاری ایران اور سندھ کے شہر ہالا کے فن کاروں کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔