صحت کارڈ کا بجٹ 51 ارب روپے، 3 سال میں 25 لاکھ افراد مستفید ہوئے: مزمل اسلم

صحت کارڈ کا بجٹ 51 ارب روپے، 3 سال میں 25 لاکھ افراد مستفید ہوئے: مزمل اسلم

مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ رواں سال صحت کارڈ کا بجٹ 51 ارب روپے ہے، 2024 میں جب حکومت بنی تو صحت کارڈ بند ہوگیا تھا، گزشتہ تین سالوں میں 25 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے صحت کارڈ سے فائدہ اٹھایا ہے۔

مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین سالوں میں 100 ارب روپے سے زیادہ فنڈز خرچ کیے گئے، کڈنی اور لیور ٹرانسپلانٹ کافی مہنگا ہے لیکن حکومت نے اسے بھی مفت کیا۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ کراچی میں کوئی سرکاری اسپتال ایسا نہیں جہاں علاج کرایا جاسکے، کراچی کے نجی اسپتالوں میں سہولیات بہترین ہیں۔

مزمل اسلم نے بتایا کہ پنجاب میں 60 ہزار 739 ایچ آئی وی کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، سندھ میں 31 ہزار سے زائد، خیبرپختونخوا میں 10 ہزار 655 جبکہ اسلام آباد میں بھی 5 ہزار سے زیادہ ایچ آئی وی کیسز سامنے آرہے ہیں۔

بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے مشیر خزانہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی فٹ آدمی ہیں، انہوں نے کبھی صحت سے متعلق کوئی شکایت نہیں کی، بانی پی ٹی آئی کو جیل میں تنہا رکھا گیا ہے اور انہوں نے دوسروں کی طرح بیرون ملک منتقل کرنے کا کبھی مطالبہ نہیں کیا۔

وزیر صحت خلیق الرحمان نے کہا کہ 2013 سے اب تک محکمہ صحت میں بڑی اصلاحات لائی گئی ہیں، 2015 میں یونیورسل ہیلتھ انڈیکس 36.2 فیصد تھا جو 2024 میں 53.5 فیصد ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں پنجاب کے برابر بہتری لائی گئی ہے، محکمہ صحت میں تاریخی بہتری آئی ہے، صحت کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے، گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال صحت کے بجٹ میں 22 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

وزیر صحت کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ جیسا پروگرام پوری دنیا میں نہیں ملے گا، ادویات کی خریداری کا عمل بروقت اور شفاف طریقے سے مکمل کرلیا ہے۔

خلیق الرحمان نے کہا کہ 72 اسپتالوں کو آؤٹ سورس کرنے پر کام جاری ہے، ہیلتھ کیئر کمیشن کو مزید مؤثر بنانے پر بھی کام جاری ہے، ایم ٹی آئی ایکٹ آنے کے بعد ایل آر ایچ سمیت دیگر اسپتالوں میں کافی بہتری آئی ہے۔

وزیر صحت نے مزید کہا کہ اسپتالوں کے آڈٹ پر بھی کام جاری ہے، ملاکنڈ، کوہاٹ اور دیگر اضلاع میں ہسپتالوں کے قیام پر کام جاری ہے جبکہ مریضوں کا تمام ریکارڈ ڈیجیٹلائز کیا جارہا ہے۔