خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایڈمیشن پالیسی 2026 جاری کر دی، پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے میڈیکل و ڈینٹل کالجز پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
پی ایم ڈی سی کے مطابق میرٹ لسٹ جاری کرنے میں تاخیر پر میڈیکل کالج کو 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا جبکہ ہر اضافی دن کے لیے مزید 50 ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے۔
بے ضابطہ داخلوں پر کالجز سے طلبہ کی سالانہ اصل فیس کے برابر جرمانہ وصول کیا جائے گا اور اگلے سیشن میں نشستیں بھی کم کی جائیں گی۔
نئی پالیسی کے تحت مختص نشستوں سے زائد داخلے دینے والے کالجز پر ہر اضافی طالب علم کی سالانہ اصل فیس کے برابر جرمانہ عائد ہوگا جبکہ اگلے سیشن میں ان کی نشستوں میں دوگنی کمی بھی کی جائے گی۔
پی ایم ڈی سی نے میڈیکل کالجز کی انتظامی غفلت پر بھی بھاری جرمانے مقرر کر دیے ہیں، طلبہ کی رجسٹریشن میں تاخیر پر 50 ہزار روپے فی طالب علم، گریجویشن کی اطلاع دینے میں تاخیر پر 75 ہزار روپے فی طالب علم جبکہ سالانہ امتحانی نتائج کی اطلاع میں تاخیر پر 30 ہزار روپے فی طالب علم جرمانہ ہوگا۔
اسی طرح طالب علم کی منتقلی یا تعلیم چھوڑنے کی اطلاع میں تاخیر پر ایک لاکھ روپے جبکہ طلبہ کی مقررہ فیس اور دیگر چارجز سے متعلق قواعد کی خلاف ورزی پر 2 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
پالیسی کے مطابق رجسٹریشن میں تاخیر پر سرکاری اداروں کے لیے 150 روپے فی طالب علم ماہانہ جبکہ نجی کالجز کے لیے 300 روپے فی طالب علم ماہانہ فیس مقرر کی گئی ہے۔
پی ایم ڈی سی نے میڈیکل و ڈینٹل کالجز، جامعات اور طلبہ کے لیے تمام دستاویزات مقررہ آن لائن پورٹل پر جمع کرانا لازمی قرار دے دیا۔
مقررہ فارمیٹ اور پی ایم ڈی سی کے آن لائن پورٹل کے علاوہ جمع کرائی گئی دستاویزات قبول نہیں ہوں گی جبکہ آن لائن رپورٹنگ کی شرائط پوری نہ کرنے پر بھی جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
نئی پالیسی میں مکمل لائسنس کے حصول کے لیے کم از کم ایک سالہ ہاؤس جاب لازمی قرار دی گئی ہے، ہاؤس جاب مکمل ہونے کے 10 دن کے اندر تدریسی ہسپتال کو سرٹیفکیٹ پی ایم ڈی سی میں جمع کرانا ہوگا۔
پی ایم ڈی سی کے مطابق جرمانہ عائد کرنے سے پہلے متعلقہ ادارے کو نوٹس جاری کرنا اور مؤقف پیش کرنے کا موقع دینا لازمی ہوگا جبکہ بار بار خلاف ورزیوں پر مزید داخلے روکنے یا قانون کے تحت کارروائی بھی کی جا سکے گی۔