خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت ادویات پر 9 اکتوبر کے بعد 2D بارکوڈ کے نفاذ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں سی ای او ڈریپ اور متعلقہ اداروں کے حکام سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ تقریباً 80 فیصد فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے ادویات پر 2D بارکوڈ کے نفاذ کا عمل شروع کر دیا ہے جبکہ ڈیٹا جمع نہ کرانے والی کمپنیوں کو باضابطہ نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزارت صحت کے مطابق مقررہ مہلت کے باوجود عمل درآمد نہ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور ادویات کا ڈیٹا جمع نہ کرانے والی کمپنیوں کے پیداواری یونٹس سیل کیے جائیں گے۔
وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جعلی ادویات کا خاتمہ ناگزیر ہو گیا ہے، اس مقصد کے لیے 2D بارکوڈ کے نفاذ کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
انہوں نے تمام فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو ہدایت کی کہ مقررہ تقاضوں کے مطابق اپنا سیریلائزیشن ڈیٹا ہر صورت ڈریپ کو جمع کروائیں تاکہ ادویات کی مؤثر نگرانی، شفافیت اور ٹریک اینڈ ٹریس نظام کو یقینی بنایا جا سکے۔