خلاصہ
- سڈنی: (ویب ڈیسک) 2050ء تک دنیا بھر میں کینسر کے کیسز میں 20.2 فیصد اور اموات میں 39.3 فیصد اضافے کا خدشہ بڑھ گیا۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلوی اور بین الاقوامی محققین نے 1990 سے 2023 تک دنیا کے 204 ممالک اور علاقوں میں سروائیکل کینسر کے کیسز، اموات اور صحت پر اس کے اثرات کا تجزیہ کیا اور 2050 تک کے رجحانات کا تخمینہ لگایا۔
آسٹریلین سائنس میڈیا سینٹر کی ویب سائٹ پر منگل کو شائع ہونے والی تحقیق کے خلاصے کے مطابق 2023 میں دنیا بھر میں سروائیکل کینسر کے تقریباً 8 لاکھ 87 ہزار نئے کیسز سامنے آئے جبکہ 3 لاکھ 69 ہزار اموات ہوئیں۔
جریدے نیچر میڈیسن میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق 2050 تک سالانہ نئے کیسز کی تعداد 2024 کے مقابلے میں 20.2 فیصد اضافے کے ساتھ 10 لاکھ 80 ہزار جبکہ اموات 39.3 فیصد اضافے کے ساتھ 5 لاکھ 22 ہزار تک پہنچنے کا امکان ہے۔
تحقیق کے مطابق سب صحارا افریقہ میں اس بیماری کے کیسز اور اموات میں سب سے زیادہ اضافے کا خدشہ ہے، جہاں 2050 تک کیسز میں 88.7 فیصد اور اموات میں 95.4 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس خطے میں اموات کی سالانہ تعداد تقریباً 2 لاکھ 6 ہزار تک پہنچ سکتی ہے، اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو دنیا کے ساتوں جائزہ شدہ خطوں میں سے کوئی بھی 2050 تک عالمی ادارہ صحت کے سروائیکل کینسر کے خاتمے کے مقررہ ہدف کو حاصل نہیں کر سکے گا، اس ہدف کے تحت ہر ایک لاکھ خواتین میں نئے کیسز کی تعداد چار سے کم ہونا ضروری ہے۔
محققین نے ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) سے بچاؤ کی ویکسین، بیماری کی بروقت تشخیص کے لیے سکریننگ اور علاج تک رسائی بڑھانے پر زور دیا ہے، تاہم دنیا کے مختلف حصوں میں ان سہولیات کی دستیابی میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق 2023 میں کم آمدنی والے ممالک میں سروائیکل کینسر کی عمر کے لحاظ سے معیاری شرحِ وقوع، زیادہ آمدنی والے ممالک کے مقابلے میں 4 گنا سے زیادہ جبکہ شرحِ اموات 7 گنا سے زیادہ تھی۔