خلاصہ
- مضامین کے انتخاب سے قبل بچے کے رجحان بارے آگاہی ہونی چاہیئے اور معلوم ہونا چاہیئے کہ وہ کیا بننا چاہتا ہے
لاہور (روزنامہ دنیا ) عموماً دیکھا گیا ہے کہ میٹرک میں یا میٹرک کے بعد طلبہ کے والد ین اکثر پریشان اور تذبذب کا شکار ہوتے ہیں کہ اپنے بچوں کو کیا مضامین رکھوائیں اور کس ادارے میں تعلیم دلوائیں ۔ سب سے پہلے والدین کو یہ دیکھنا ہوگا کہ ان کا بیٹا یا بیٹی کس قدر پڑھائی میں دلچسپی لیتی ہے اور اس کا رجحان کس مضمون کی طرف زیادہ ہے ۔ اس مقصد کیلئے بچوں کی آرا بھی پوچھی جانی چاہیے کہ ان کاشوق کس مضمون میں ہے اور وہ کیا بننا چاہتے ہیں ۔ بچوں کے شوق کو دیکھتے ہوئے میٹرک یا ایف اے ، ایف ایس سی میں وہ مضامین رکھوائے جائیں جو کہ ان کے مستقبل کے شعبہ کیلئے معاون ہوں ۔ زبردستی مضامین نہ رکھوائیں والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو اپنی پسند کے مضامین زبردستی نہ رکھوائیں ، ہاں اگر بہتر مشاورت اور طالبعلم کی پسند کے ساتھ کسی شعبہ کا انتخاب کیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن طالبعلم کی مرضی کے خلاف ہرگز مضمون نہیں رکھوانا چاہیے ورنہ بچہ اس مضمون کو سنجیدہ نہیں لے گا اور نمبر کم آنے پر والدین ہی کو ذمہ دار گردانتا رہے گا ۔
بچے کو اس کی پسند کے مطابق مضامین رکھوانے کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ وہ دلچسپی سے اس مضمون کو پڑھے گا اور اچھے نمبر لے گا ۔ جو شعبہ مستقبل میں اچھے نتائج دے سکتا ہے اس پر کسی ماہر سے مشورہ کرکے آپ بچے کو ایک چوائس دے سکتے ہیں کہ اگر وہ یہ شعبہ اختیار کرلے تو اس کے لئے مستقبل میں بہتری رہے گی لیکن یہ چوائس بھی اس کی مرضی پر چھوڑنی چاہیے کہ اگر اس کی دلچسپی ہے تو ٹھیک ورنہ والدین وہ چوائس واپس لے لیں اور بچے کی مرضی کے مطابق مضامین رکھوائیں ۔ کونسے مضامین رکھوانے چاہیں جو طالبعلم اعداد و شمار اور تکنیکی چیزوں جیسے کمپیوٹر ، مشینوں اور آلات میں دلچسپی لیتے ہوں ان کے لئے ایف ایس سی میں ریاضی (نان میڈیکل ) بہتر شعبہ رہیگا ۔ کچھ طالبعلم اپنے ہم جماعتوں کی دیکھا دیکھی مضامین رکھتے ہیں جو کہ درست نہیں ۔ طالبعلم کو یہ دیکھنا ہے کہ اس کا اپنا رجحان کس شعبہ میں ہے ، آپ جس شعبہ میں جائیں گے وہاں دوست بن جائیں گے ، دوستی میں اپنے مستقبل سے نہیں کھیلنا چاہیے ۔
جن بچوں کا رجحان جاندار اشیا کی افزائش میں ہوتا ہے جیسے پودوں یا جانوروں میں ان کی دلچسپی ہوتی ہے تو ان کے لئے بیالوجی (میڈیکل) کی فیلڈ بہتر رہتی ہے ۔ بچیوں کیلئے عموماً ہوم اکنامکس ایک اچھی فیلڈ تصور کی جاتی ہے لیکن وہ بھی میڈیکل اور نان میڈیکل میں قسمت آزمائی کرتی ہیں جو کہ ایک اچھی بات ہے اور اب تو کمپیوٹر کے شعبہ کو بھی بہت سی طالبات اختیار کر رہی ہیں ۔ کون سے شعبے بہتر ہیں آئی ٹی کا شعبہ اس وقت ملک میں تیزی سے پھیل رہا ہے ، دنیا میں بھی اس کی بہت مانگ ہے ۔ اس شعبہ کو جوائن کرکے آپ بہتر مستقبل بنا سکتے ہیں ۔ جیوگرافی ایک بہت اچھا مضمون ہے لیکن اس طرف بہت کم طالبعلم آتے ہیں ، اسے بھی اپنایا جاسکتا ہے ۔ خصوصاً مقابلے کے امتحان میں جانے کیلئے ابھی سے ایسے مضامین رکھوانے چاہئیں جو کہ مستقبل میں سی ایس ایس میں کام آسکیں ۔ کامرس کی لائن میں لے جانے کیلئے ضروری ہے کہ بچے کا رجحان دیکھا جائے ۔ آج کل سرکاری ملازمتوں میں شارٹ ہینڈ کی بہت مانگ ہے اور کئی امیدوار یہ مہارت نہ رکھنے کی وجہ سے ملازمتوں کے اہل نہیں ہوتے اور بہت کم امیدوار سامنے آتے ہیں تو شارٹ ہینڈ اور ٹائپنگ بھی ایک اچھی مہارت ہے ۔ کون سے تعلیمی ادارے کا چنائو کیا جائے کسی بھی تعلیمی ادارے کا چنائو کرتے وقت یہ دیکھا جانا چاہیے کہ اس کی فیکلٹی کیسی ہے اور وہاں کا ماحول تعلیم کیلئے کیسا ہے ۔ اس مقصد کیلئے اس ادارے کا ماضی اور موجودہ پڑھانے والے اساتذہ کی قابلیت کو ضرور دیکھنا چاہیے ۔
حکومتی کوششوں کے بعد اب سرکاری تعلیمی اداروں میں بہتر فیکلٹی ہے جو کہ چیک اینڈ بیلنس کی وجہ سے بہتر نتائج کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ پرائیویٹ اداروں میں والدین زیادہ پیسے دے کر اس خوش فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ بس اب بچہ پڑھ گیا حالانکہ جس تعلیمی ادارے کا ماحول اور پڑھانے والے اچھے ہوں وہاں اگر کم پیسے میں داخلہ ہوتا ہے تو طالبعلم کو وہیں داخل کرانا چاہیے کیونکہ پڑھنے والے بچے نے اپنے لئے جگہ بنانی ہوتی ہے ۔ بچہ اگر زیادہ اوپن ذہن کا ہے اور آوارہ گردی والا ذہن ہے تو اسے ایسے کالج میں داخل کرانا چاہیے جہاں کا ماحول ذرا سخت ہو اور سکول جیسا ماحول ہو ورنہ کالج میں جاکر اکثر ذہین طلبہ ماحول کھلا ملنے پر مزید آوارہ ہوجاتے ہیں ۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر کالج میں جانے کے بعد زیادہ سختی نہ کریں اوراگر وہ پڑھائی پر توجہ نہیں دے رہے تو انہیں گھر کے دوسرے بڑوں کے ذریعے تنبیہ کریں۔
بچوں کو بہتر طریقہ سے سمجھانا اور کامیاب لوگوں سے ملوانا بھی ان کے آگے بڑھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔ کامیاب اور کالج میں ٹاپ پر آنے والے طالبعلموں سے ضرور ملوائیں تاکہ انہیں دیکھ کر بچے متاثرہوں۔ کون سے بچے زیادہ مسائل پیدا کرتے ہیں پڑھائی کے حوالے سے وہ بچے والدین کے لئے زیادہ مسائل پیدا کرتے ہیں جو کہ زیادہ وقت اپنے دوستوں کے ساتھ آوارہ گردی میں گزارتے ہیں اور تقاریب میں شرکت کے عادی ہوتے ہیں ۔اس لئے شروع ہی سے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور وقت کو ضائع کرنے سے روکیں۔کچھ بگڑے بچے اپنے گھر والوں سے زیادہ دوسروں کا کہنا مانتے ہیں اس لئے اس بات کو محسوس کرتے ہوئے فیملی یا فیملی سے باہر کسی سے ان کو سمجھانے کی کوشش ضرور کریں کیونکہ بچوں کے لیے اس طرح کے اقدامات بھی کرنے پڑتے ہیں تاکہ ان کا مستقبل محفوظ رہے ۔ اخلاقی طور پر انہیں مضبوط بنائیں ، جتنا وہ اخلاقی طور پر مضبوط ہونگے اتنا ہی معاشرے کیلئے اچھے شہری ثابت ہونگے ۔