فیصلے سے اتفاق، مگر وجوہات سے نہیں: جسٹس عظمت سعید

فیصلے سے اتفاق، مگر وجوہات سے نہیں: جسٹس عظمت سعید

جسٹس شیخ عظمت سعید نےآٹھ صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ میں لکھا ہےکہ آرٹیکل 62 ون ایف کی بنیاد ہماری اسلامی اقدار ہیں، ایسی شقوں کی تشریح انتہائی محتاط انداز میں کرنی چاہیے، اٹارنی جنرل کا موقف درست تھا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کو طےکرنا چاہیے ، عدالت آئین کی تشریح کر سکتی ہے، ترمیم یا کوئی اضافہ نہیں۔

فاضل جج کا مزید کہنا ہے کہ عدالت ایک سے زائد مرتبہ کہہ چکی ہے کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی دائمی ہوگی، جب تک عدالتی فیصلہ موجود رہے گا، متعلقہ شخص کی نااہلی بھی رہے گی ، بعض وکلا کے مطابق تاحیات نااہلی ایک سخت فیصلہ ہو گا، یہ دلیل مجلس شوریٰ کے لئے زیادہ مناسب ہے کہ اس نے نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا۔