سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کو کام سے روکنے کے حکم میں 30 اپریل تک توسیع

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کو کام سے روکنے کے حکم میں 30 اپریل تک توسیع

لاہور ہائیکورٹ میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سردار احمد جمال سکھیرا نے جواب جمع کروانے کے لیے مہلت مانگ لی۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ جواب جمع کروانے کے لیے کچھ ہفتوں کی مہلت دی جائے۔ جسٹس قاسم خان نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی استدعا پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا کچھ ہفتوں کی مہلت چاہیے ؟ ہم اس کیس لٹکانا نہیں چاہتے، پنجاب حکومت سانحہ ماڈل ٹاؤن پر نئی جے آئی ٹی سے متعلق بار بار مہلت مانگ لیتی ہے۔

پاکستان عوامی تحریک کے وکیل اظہر صدیق کے دلائل نے دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے بینچ کے خلاف انتظامی سطح پر درخواست دائر کر رکھی ہے، بینچ کی تشکیل کو ہائیکورٹ میں چیلنج کریں گے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کی تشکیل قانون کے مطابق ہوئی۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو جواب جمع کروانے کے لیے 15 روز کی مہلت دے دی۔