تازہ ترین
  • بریکنگ :- 13اگست کے جلسے اور شہباز گل کی گرفتاری کی صورتحال پرغور،ذرائع
  • بریکنگ :- 13 اگست کا جلسہ ہر حال میں ہوگا، بھرپور تیاری کریں، عمران خان
  • بریکنگ :- شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کا ایف آئی اے سے رجوع کرنےکا فیصلہ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:درخواست علی اعوان کی جانب سے تیار کی گئی،ذرائع
  • بریکنگ :- عمران خان سمیت پی ٹی آئی قیادت کی شہبازگل کی گرفتاری کی مذمت
  • بریکنگ :- فیصل چودھری شہباز گل کے مقدمے میں معاونت کریں گے، اجلاس میں فیصلہ
  • بریکنگ :- حکومت فاشزم پراترآئی ہے،چیئرمین تحریک انصاف عمران خان
  • بریکنگ :- سیاسی کارکنوں کےساتھ غیرجمہوری رویہ اختیارکیاجارہاہے،عمران خان
  • بریکنگ :- حکومت کےفاشسٹ رویےکوکسی صورت برداشت نہیں کریں گے،عمران خان
  • بریکنگ :- عوام کی طاقت ہمارےساتھ ہے، کسی سےڈرنےوالےنہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- اسلام آباد:امپورٹڈ حکومت کےدن گنےجاچکےہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی قیادت کا اجلاس

خیبرپختونخوا: صحت انصاف کارڈ کا دائرہ کار 100 فیصد نہ بڑھایا جاسکا

Last Updated On 23 January,2020 03:41 pm

پشاور: (دنیا نیوز) خیبرپختونخوا حکومت اپنے دعووں پر عملدرآمد نہ کرا سکی، صحت انصاف کارڈ سکیم تاخیر کا شکار ہوگئی، دائرہ کار 100 فیصد نہ بڑھایا جاسکا۔

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے عوام کو مفت علاج کی سہولت فراہم کرنے کا صحت انصاف کارڈ کا بڑا اقدام تو اٹھایا لیکن پائیہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔

پروگرام کے تحت صوبے کے 60 لاکھ خاندانوں کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی جانی تھی لیکن صرف 22 لاکھ خاندانوں کو کارڈ مہیا کیے گئے۔ ہسپتالوں میں آنے والے مریض اور شہری بھی حکومتی اعلانات پر عملدرآمد نہ ہونے پر مزید مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق صوبے بھر کے 22 لاکھ افراد کو فراہم کردہ صحت انصاف کارڈ پر ساڑھے 6 ارب روپے لاگت آ رہی ہے، تاہم صحت کارڈ 100 فیصد خاندانوں کو دینے کی صورت میں لاگت 18 سے 20 ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔

صوبائی حکومت کی جانب سے شناختی کارڈ پر بھی علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے اعلانات کیے گئے ہیں تاہم خیبرپختونخوا میں آبادی کے لحاظ سے نصف سے زائد خاندان تاحال صحت انصاف کارڈ سے محروم ہیں۔ صوبائی حکومت کے مطابق انصاف کارڈ کا دائرہ کار صوبہ بھر میں پھیلانے کے لیے پروگرام کا دوبارہ آغاز رواں سال سے کیا جائے گا۔