تازہ ترین
  • بریکنگ :- راناتنویرکی صدارت میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کااجلاس
  • بریکنگ :- پی اےسی اجلاس میں نیب آڈٹ کےاعتراضات کاجائزہ
  • بریکنگ :- ڈی جی نیب کی پی اےسی کونیب کی کارکردگی پربریفنگ
  • بریکنگ :- نیب نےاکتوبر 2021 تک 821 ارب 57 کروڑریکورکیے،ڈی جی نیب
  • بریکنگ :- نیب نے 500 ارب سےزائدکی ان ڈائریکٹ ریکوری کی،ڈی جی نیب
  • بریکنگ :- ریکوری کیش،زمین،ہاؤسنگ سوسائٹیز،کورٹ کیسزسےکی گئی،بریفنگ
  • بریکنگ :- ہمیں ان کیسز کی مکمل تفصیلات بتائی جائیں،ایازصادق
  • بریکنگ :- بک انٹری سمیت ایک ایک چیز کی تفصیل چاہیے،چیئرمین پی اےسی
  • بریکنگ :- سب سےزیادہ ریکوریاں راولپنڈی سے 294 ارب کی گئیں،ڈی جی نیب
  • بریکنگ :- سب سےکم ریکوریاں بلوچستان سے 51 کروڑکی کیں،نیب حکام
  • بریکنگ :- لاہور 84 ارب 17 کروڑ،کراچی سے 88 ارب 28 کروڑریکور،ڈی جی نیب

کورونا کا خطرہ، خیبرپختونخوا کی مساجد میں نمازیوں کی تعداد محدود کردی گئی

Last Updated On 31 March,2020 09:37 pm

پشاور: (دنیا نیوز) خیبر پختونخوا کی مساجد میں نمازیوں کی تعداد محدود کر دی گئی ہے۔ کمیٹی ارکان سمیت پانچ افراد باجماعت نماز ادا کر سکیں گے۔

تفصیل کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے کرونا وائرس کے خدشات کے پیش نظر اقدامات مزید سخت کر دئیے ہیں۔ محکمہ ریلیف وآبادکاری کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق علمائے کرام سے مشاورت کے بعد مساجد میں نمازیوں کی تعداد محدود کر دی گئی ہے۔

اعلامیہ کے مطابق اب صرف انتظامی کمیٹی پر مشتمل پانچ افراد باجماعت نماز ادا کر سکیں گے تاہم عام لوگ مساجد کے بجائے اپنے گھروں نماز ادا کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کا مساجد میں‌ باجماعت نماز اور جمعہ محدود کرنے کا فیصلہ

خیال رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم کے زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں مساجد میں باجماعت نماز اور جمعہ محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے اس سلسلے میں کہا تھا کہ مسلم اُمہ نے احتیاطی تدابیر کے طور پر اقدامات اٹھائے۔ شیخ الازہر اور حرمین شریفین کی طرف سے بھی فتوٰی آیا ہے۔ ترکی، مصر اور مراکش سمیت بہت سارے ممالک نے مساجد کو بڑے اجتماعات کیلئے بند کر دیا۔ اس کے علاوہ تین دن سے مکہ مکرمہ اور مسجد اقصیٰ کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔

پیر نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مساجد کو بند نہیں ہونے دیں گے۔ مساجد سے اذان کی صدائیں آئیں گی تاہم مساجد میں پانچ وقت کی نماز اور جمعہ کی نماز کو محدود رکھا جائے گا۔ مسجد کا عملہ اور محدود تعداد میں تندرست لوگ نماز ادا کریں گے جبکہ باقی گھروں میں پڑھیں گے۔