گھر میں قرنطینہ: مریض کو 15 میں سے 12 نمبر لینے ہو نگے

گھر میں قرنطینہ: مریض کو 15 میں سے 12 نمبر لینے ہو نگے

اسی طرح ہائپر ٹینشن کے 2، تیماردار، ٹرانسپورٹ اور خاندان کی تعلیم کا ایک ایک نمبر مریض کو دیا جائے گا۔ ہسپتالوں میں داخل کورونا کی مثبت علامات نہ ہونیوالے مریض آج سے کمیٹی کو گھر میں قرنطینہ کیلئے درخواست دے سکیں گے جس کیلئے ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے وارڈز میں اعلانات کئے جائیں گے۔ مریض کا گھر ہائی ڈیپی ڈینسی یونٹ( ایچ ڈی یو) کی سہولت ایک گھنٹے سے زیادہ کی مسافت پر نہیں ہونی چاہیے۔ گھر میں مریض کیلئے علیحدہ کمرے اور علیحدہ واش روم کی سہولت ہونی چاہئے۔ مریض کے پاس چوبیس گھنٹے فون کی سہولت دستیاب ہونی چاہئے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق مریض کے بلڈ پریشر کی صورتحال نارمل ہونی چاہئے، مریض کی نگرانی کیلئے گھر میں صحت مند شخص کا موجود ہونا ضروری ہوگا۔ طبیعت کی خرابی پر مریض کے پاس ٹرانسپورٹ کی سہولت موجود ہونی چا ہئے۔ مریض کے خاندان میں کورونا وائرس سے متعلق آگاہی اور حکومتی ہدایات سمجھنے کی صلاحیت ہونی چاہئے۔

میڈیکل ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنے سخت ایس او پیز کے مطابق غریب مریض گھر میں آئسولیٹ نہیں ہوسکے گا اور ضروری بھی ہے کہ اگر گھر میں الگ سے واش روم، تیماردار اور کمرے کی سہولت نہیں تو مریض ہسپتال میں زیر علاج رہے جس کا فیصلہ کمیٹی کرے گی۔