تازہ ترین
  • بریکنگ :- اسلام آباد:جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نظرثانی کیس کاتحریری فیصلہ
  • بریکنگ :- عدالت نے 9 ماہ 2 دن بعدنظرثانی درخواستوں کاتحریری فیصلہ جاری کیا
  • بریکنگ :- اسلام آباد:جسٹس یحییٰ آفریدی نےاضافی نوٹ تحریرکیا
  • بریکنگ :- سریناعیسیٰ کی نظرثانی درخواستیں اکثریت سےمنظور،فیصلہ
  • بریکنگ :- 10رکنی لارجربنچ کا 4-6 کےتناسب سے سریناعیسیٰ کےحق میں فیصلہ
  • بریکنگ :- سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ 26 اپریل 2021 کو سنایا تھا
  • بریکنگ :- فیصلہ جسٹس مقبول باقر،جسٹس مظہرعالم نےتحریرکیا
  • بریکنگ :- فیصلہ جسٹس منصورعلی شاہ،جسٹس امین الدین نےتحریرکیا
  • بریکنگ :- عدالت کےجج سمیت کوئی قانون سےبالاترنہیں،فیصلہ
  • بریکنگ :- کسی کوبھی قانونی حق سےمحروم نہیں کیاجاسکتا،فیصلہ
  • بریکنگ :- جج کوڈآف کنڈکٹ کےمطابق اہلخانہ کےمعاملات پرجوابدہ نہیں،فیصلہ
  • بریکنگ :- ہرشخص کواپنےکیےاعمال کاحساب دیناہوتاہے،فیصلہ
  • بریکنگ :- کسی اورکی غلطی پردوسرےکوسزانہیں دی جاسکتی،فیصلہ
  • بریکنگ :- سپریم کورٹ یاکوئی ادارہ سپریم جوڈیشل کونسل کوکارروائی کانہیں کہہ سکتا،فیصلہ
  • بریکنگ :- صدرمملکت کی سفارش کےبغیرسپریم جوڈیشل کونسل کارروائی نہیں کرسکتی،فیصلہ
  • بریکنگ :- سپریم کورٹ ازخودنوٹس کااختیارسپریم جوڈیشل کونسل پراستعمال نہیں کرسکتی،فیصلہ
  • بریکنگ :- سپریم کورٹ کاسپریم جوڈیشل کونسل کوحکم آرٹیکل 211 کی خلاف ورزی ہے،فیصلہ
  • بریکنگ :- بعض اوقات ججزکی ساکھ متاثرکرنےکی کوششیں ہوتی ہیں،فیصلہ
  • بریکنگ :- ججزکےپاس اپنی صفائی پیش کرنےکیلئےعوامی فورم بھی نہیں ہوتا،فیصلہ
  • بریکنگ :- ایسی صورتحال میں عدلیہ کی بطورآئینی ادارہ ساکھ متاثرہوتی ہے،فیصلہ
  • بریکنگ :- جج اپنی اہلیہ اوربچوں کےمعاملات کاذمہ دارنہیں ہوتا،فیصلہ

وزیراعظم نے ایاز صادق کے منفی بیان کو عوامی سطح پر اٹھانے کی ہدایت کردی

Published On 02 November,2020 06:41 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم عمران خان نے لیگی رہنما سردار ایاز صادق کے قومی سلامتی کے منافی بیان کو عوام سطح پر بھرپور طریقے سے اٹھانے کی ہدایت کر دی ہے۔

تفصیل کے مطابق وزیراعظم کے زیر صدارت ترجمانوں کا اجلاس ہوا جس میں ملکی سیاسی، معاشی صورتحال اور اپوزیشن کے جلسوں کے مدنظر آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں سابق سپیکر قومی اسمبی ایاز صادق کے بیان کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ وزیراعظم نے ایاز صادق کے منفی بیان کو عوامی سطح پر اٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی عوام فوج سے پیار کرتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ فوج مخالف بیانیہ پر (ن) لیگ میں تقسیم ہے۔ حکومتی بیانیہ اور اقدامات کو موثر طورپر اجاگر کیا جائے۔ انہوں نے اس موقع پر عوامی فلاح کے منصوبوں کو بھی تیز کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے اجلاس میں موجود ارکان اسمبلی کو بھی متحرک کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کا مقصد صرف این آر او حاصل کرنا ہے۔ اپوزیشن اور پاکستان کے مفادت الگ الگ ہیں۔ اپوزیشن کی کرپشن کو عوام میں زیادہ سے زیادہ بے نقاب کیا جائے۔

دوسری جانب وزیراعظم کے زیر صدارت ایک اور اہم اجلاس ہوا جس میں قومی یکساں نصاب تعلیم سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بریفنگ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ یکساں نصاب کا مقصد طلبہ میں تجزیاتی اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہے۔

شفقت محمود کا کہنا تھا کہ اس کا اطلاق ملک کے تمام نجی، سرکاری سکولوں اور دینی مدارس پر بھی ہوگا۔ اسلامیات پہلی سے بارہویں جماعت تک علیحدہ مضمون ہوگی۔

اجلاس کو دوران بریفنگ بتایا گیا کہ اقلیتی طلبہ کے لیے مذہبی تعلیمات کے نام سے ایک الگ مضمون متعارف کیا گیا۔ تعلیم کے شعبے میں طبقاتی تقسیم ختم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یکساں نظام تعلیم ناصرف دور جدید کا تقاضا ہے بلکہ ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ نئی نسل کو خاتم النبین ﷺ کی حیات مبارکہ اور سنت کے متعلق مکمل آگاہی ہونی چاہیے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حضرت محمد ﷺ ہی ہمارے رول ماڈل ہیں اور ان کی سنت ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ قومی پالیسی سے تعلیمی معیار میں بہتری آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشرے کے تمام طبقات کو بااختیار بنانے کے مساوی مواقع فراہم ہوں گے۔ اس نظام کی کامیابی تدریسی عملے کے انتخاب اور استعداد کار میں اضافے پر منحصر ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی کی بدولت پاکستان میں معیاری تعلیم کا حصول ممکن ہو سکے گا۔ یکساں نظام تعلیم خطے کے دیگر ممالک کے لیے قابل تقلید مثال قائم کرے گا۔