تازہ ترین
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 12 لاکھ 21 ہزار 261 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک میں کوروناکےایکٹوکیسزکی تعداد 64 ہزار 564 ہے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹے کےدوران کوروناسےمزید 63 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 27 ہزار 135 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 57 ہزار 77 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کورونا کے مزید 2512 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 4.4 فیصدرہی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکے 3 ہزار 610 مریض صحت یاب،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےصحت یاب افرادکی مجموعی تعداد 11 لاکھ 29 ہزار 562 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں ایک کروڑ 87 لاکھ 97 ہزار 433 کوروناٹیسٹ کیےجاچکے
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر 5117 مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- پنجاب 4 لاکھ 20 ہزار 615 ،سندھ میں 4 لاکھ 49 ہزار 349 کیسز،این سی اوسی
  • بریکنگ :- خیبرپختونخواایک لاکھ 70 ہزار 738،بلوچستان میں 32 ہزار 722 کیس رپورٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد ایک لاکھ 3 ہزار 923 ،گلگت بلتستان میں 10 ہزار 232 کیسز
  • بریکنگ :- آزادکشمیرمیں کورونامریضوں کی تعداد 33 ہزار 682 ہوگئی،این سی اوسی

'سینیٹ الیکشن ماضی کے طریقہ کار کے مطابق ہونگے، صدارتی ریفرنس کی حیثیت ختم ہوگئی'

Published On 02 March,2021 09:33 am

اسلام آباد: (دنیا نیوز) شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات ماضی کے طریقہ کار کے مطابق ہونگے، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد صدارتی ریفرنس کی حیثیت ختم ہوگئی، پارلیمان سے ہی ایوان بالا کے الیکشن کا طریقہ کار تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں یوسف رضا گیلانی کی جیت کیلئے پر امید ہیں، پی ڈی ایم امیدوار کی کامیابی سے پاکستان کی سیاست کو نیا رخ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈسکہ میں 20 پریذائیڈنگ آفیسر اغوا ہوئے جو آج تک نہیں پتا چل سکا کس نے اغوا کیے، جب حکومت خود ووٹ چوری کرنے میں ملوث ہو وہاں انصاف کی کیا توقع کریں گے۔

لیگی رہنما نے کہا کہ سپریم کورٹ کی رائے کا خیر مقدم کرتے ہیں، عدالت نے بھی خفیہ رائے شماری کو برقرار رکھا، سپریم کورٹ نے کہا سینیٹ الیکشن میں شفافیت برقرار رکھی جائے، عدالت کی رائے کے بعد الیکشن کمیشن کا مضبوط کردار سامنے آنا چاہیے۔

یاد رہے قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اپنی 157 نشستیں ہیں، اتحادیوں میں ایم کیو ایم کی 7، مسلم لیگ ق کی اور بی اے پی کی 5، 5 جی ڈی اے کی 3، شیخ رشید کی آل پاکستان مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کی 1، 1 نشست جبکہ 1 آزاد امیدوا اسلم بھوتانی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس طرح پاکستان تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں 180 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

دوسری طرف متحدہ اپوزیشن کی جماعتوں میں سے مسلم لیگ ن کی 83، پیپلزپارٹی کی 55، متحدہ مجلس عمل پاکستان کی 15، اے این پی اور جماعت اسلامی کی 1،1 نشست جبکہ 3 آزاد امیدواروں کا ساتھ بھی حاصل ہے۔ متحدہ اپوزیشن کے مجموعی اراکین کی تعداد 161 بن جاتی ہے۔ یوں وفاق کی جنرل نشست پر اپوزیشن کو جیتنے کے لئے حکومتی اتحاد میں سے 10 ووٹ توڑنے ہوں گے۔

اس وقت قومی اسمبلی کا ایوان 341 اراکین پر مشتمل ہے، اگر تمام ووٹ کاسٹ ہوتے ہیں تو جیتنے والے امیدوار کو 171 ووٹ درکارہوں گے۔ اگر تمام ووٹ کاسٹ نہیں ہو پاتے تو کاسٹ ووٹوں میں سے 51 فیصد ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار فاتح قرار پائے گا۔