تازہ ترین
  • بریکنگ :- مردان : وفاقی حکومت مدت پوری کرے گی، مولانا فضل الرحمان
  • بریکنگ :- قوم کوفارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کاانتظارہے،مولانافضل الرحمان
  • بریکنگ :- شیریں مزاری کی گرفتاری پرانی ایف آئی آرکےتحت ہوئی، فضل الرحمان
  • بریکنگ :- ملکی استحکام کیلئے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا،مولانا فضل الرحمان
  • بریکنگ :- ملک کوعمران خان دورکی تباہ کاریوں سےنکالناچیلنج ہے،فضل الرحمان

پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس، ای وی ایم، اوورسیز ووٹنگ سمیت29 بلزایجنڈے کا حصہ

Published On 16 November,2021 07:02 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کر لیا گیا، ای وی ایم، اوورسیز ووٹنگ سمیت 29 بلز ایجنڈے کا حصہ ہیں، نمبر گیم میں برتری کیلئے سرکار اور حزب اختلاف سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہو گئی۔

حکومت نے انتخابی اصلاحات سے متعلق اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کے بعد پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بدھ کو طلب کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق مشترکہ اجلاس 17 نومبر بروز بدھ دوپہر 12 بجے منعقد ہو گا۔۔ حکومت نے 29 بلز کو ایک ساتھ منظور کرانے کی پلاننگ طے کر لی، انتخابی اصلاحات، ای وی ایم، سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ دینے کے بل شامل ہیں۔ تمام بلز کی تحاریک مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان پیش کریں گے، 8 مختلف بلز پر ارکان کی ترامیم بھی شامل ہونگی۔

مشترکہ اجلاس کا ایجنڈا دنیا نیوز کو موصول 

اُدھر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا ایجنڈا دنیا نیوز کو موصول ہو گیا۔

ایجنڈا کے مطابق اجلاس میں انتخابی ترمیمی بل 2021ء پیش کئے جائیں گے، اجلاس میں انتخابی دوئم ترامیمی بل بھی پیش کیا جائے گا، انتخابی اصلاحات سے متعلق بل مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان پیش کریں گے۔

ایجنڈا کے مطابق کلبھوشن یادیو اور عالمی عدالت انصاف سے بل متعلق اجلاس میں پیش کیا جائے گا، کلبھوشن یادیو اور عالمی عدالت انصاف سے متعلق بل وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم پیش کریں گے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران وفاقی دارالحکومت میں چیریٹی رجسٹریشن اینڈ فیسلیٹیشن بل پیش کیا جائے گا، سٹیٹ بینک پاکستان بینکنگ سروسز کارپورشن ترامیمی بل 2021ء پیش کیا جائے گا، مشترکہ اجلاس میں نیشنل کالج آف آرٹس انسٹیٹیوٹ بل بھی پیش کیا جائے گا۔

اجلاس کے دوران مسلم فیملی لا کے دو بل مشترکہ اجلاس میں پیش کئے جائیں گے، اینٹی ریپ بل 2021ء بھی مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، حیدر آباد انسٹیٹیوٹ ٹیکنیکل مینیجمنٹ سائنس بل بھی اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
 

وزیراعظم عمران خان کی قانونی ٹیم سے ملاقات

اُدھر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کی قانونی ٹیم سےملاقات ہوئی، ملاقات میں ڈاکٹر بابراعوان، اٹارنی جنرل خالد جاوید، سپیکر قومی  اسمبلی اسد قیصر شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔ 

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن سےمیری بات ہوئی ہے، اپوزیشن کےخط کاجلدجواب دےدوں گا۔ 

سپورٹس ہمیشہ میدان میں جیت کے لیے اُترتا ہے: وزیراعظم عمران خان

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے متعلق پوچھے گئے سوال کا صحافی کو زبردست جواب دیدیا۔

صحافی کی طرف سے عمران خان سے سوال پوچھا گیا کہ کل کے مشترکہ پارلیمنٹ کے اجلاس کے حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟

اس سوال کے جواب پر وزیراعظم نے کہا کہ جو سپورٹس مین ہوتا ہے وہ ہمیشہ جیت کے لیے میدان میں اترتا ہے۔

ایم کیو ایم وفد کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے ایم کیو ایم کے وفد نے ملاقات کی، ملاقات میں ایم کیو ایم نے مشترکہ پارلیمنٹ اجلاس میں مکمل ساتھ دینے کی یقین دہانی کرا دی۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم نے وزیراعظم سے اپنے مطالبات پر بھی بات کی جبکہ ایم کیو ایم کو ترقیاتی منصوبوں سے متعلق مطالبات کی جلد حل کی یقینی دہانی کروا دی گئی ہے۔

بلوچستان عوامی پارٹی کا مشترکہ اجلاس میں حکومت کی حمایت کا اعلان
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قبل بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) نے وفاقی حکومت کی حمایت کا اعلان کر دیا۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر ظہور بلیدی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم بطور اتحادی وزیراعظم عمران خان کی غیر مشروط حمایت جاری رکھیں گے، پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں بی اے پی کے تمام اراکین بھرپور شرکت کرینگے۔

انہوں نے کہا کہ بلاشبہ موجودہ وفاقی حکومت نے پہلی بار جنوبی بلوچستان جیسے پسماندہ علاقوں کو ترجیح دی، بلوچستان میں سیاسی بحران کاخاتمے وزیراعظم عمران خان کی مداخلت کے بغیر ناممکن تھا، وزیراعظم عمران خان نے ہی اہم عہدوں پر بلوچوں کو نمائندگی دی، وزیراعظم عمران خان ہی ناراض بلوچ کو قومی دھارے میں لانےکیلئے سنجیدہ ہیں۔

ایسی قانون سازی چاہتے ہیں جس سے عوام کا فادئہ ہو: شاہ محمود قریشی

وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں جستجو جاری رہتی ہے، ہماری نیت درست ہے، ہم دیانتداری کے ساتھ شفاف انتخابات چاہتے ہیں، ہم ایسی قانون سازی کرنا چاہتے ہیں جس سے عوام کا فائدہ ہو، ہم نے پارٹی کے اراکین اور اتحادیوں کو اعتماد میں لیا، آج سب ہمارے ساتھ آن بورڈ ہیں کیونکہ ہمارا کوئی مخفی ایجندا نہیں ہے، چاہتے ہیں اس ملک میں ہمیشہ کیلئے شفاف انتخابات ہوں۔

متحدہ اپوزیشن کا متنازعہ قانون سازی کا راستہ پوری قوت سے روکنے کا اعلان

بدھ کو ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران متحدہ اپوزیشن نے متنازعہ قانون سازی کا راستہ پوری قوت سے روکنے کا اعلان کر دیا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا متحدہ اپوزیشن رہنماﺅں سے اہم مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس پارلیمنٹ ہاﺅس میں اپوزیشن چیمبر میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ، سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا اسعد، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے بھی شرکت کی۔

سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناءاللہ کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں کے دیگراراکین پارلیمان نے بھی شرکت کی۔

پارلیمنٹ کے کل کے مشترکہ اجلاس کے لئے متحدہ اپوزیشن نے حکمت عملی طے کرلی، اپوزیشن رہنماؤں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوت سے حکومت کی سیاہ قانون سازی کا راستہ روکیں گے، تمام اپوزیشن اراکین پارلیمان کو اپنی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ متحدہ اپوزیشن کے قائدین اپنی جماعتوں کے اراکین کی حاضری یقینی بنائیں گے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف نے کہا کہ ملک کو معاشی زوال اور عوام کو مہنگائی کے وبال میں مبتلا کرنے والی ظالم حکومت سیاہ قوانین سے زندگی نہیں پاسکتی۔

چھوٹی پارٹیوں کو مشترکہ اجلاس میں جانے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے: فضل الرحمان

دوسری طرف حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشترکہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں چھوٹی پارٹیوں کو مشترکہ اجلاس میں جانے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ حکومت کو اکثریت حاصل نہیں، اتحادی ساتھ دینے کو تیار نہیں، نا اہل حکمران اقتدار کو طول دینے کے لیے ناجائز طریقے اپنا رہے ہیں۔ حکومت جعلی پارلیمنٹ کو قانون سازی کے لیے تیار کر رہی ہے۔ مشترکہ اجلاس کو شکست کے خوف سے ملتوی کیا گیا ۔ لوگوں کو سیف ہاؤسز میں لےجایاگیا ہمیں رپورٹ ملی ہیں، حکومت کےپاس جبری اکثریت ہے۔ عدالت سےرجوع کیلئے قوانین کا جائزہ لیاجائےگا۔ 19 نومبر سے پہلے آخر جلدی کیوں ہے، یہ معاملے کو مشکوک بناتا ہے۔ سیاست میں ناجائز مداخلت ہو تو پھر شکایت ہمارا حق ہے۔

واضح رہے کہ صدر مملکت نے 11 نومبر کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا اعلان کیا تھا تاہم حکومت کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے تحفظات پر اجلاس ملتوی کردیا گیا تھا۔

وزیراعظم کی اتحادیوں سے ملاقات

گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان سے ایم کیو ایم ، مسلم لیگ (ق) اور دیگر اتحادی جماعتوں کے قائدین نے ملاقات کی جس میں انتخابی اصلاحات، انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال اور دیگر معاملات پر بریفنگ دی گئی اور اتحادی جماعتوں کے تحفظات کو دور کیا گیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوھری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان سے تحریک انصاف کی اتحادی جماعتوں کے ارکان کی ملاقات ہوئی ہے، جی ڈی اے، ایم کیو ایم، ق لیگ، بلوچستان عوامی پارٹی سمیت تمام اتحادی جماعتوں کی قیادت ملاقات میں موجود تھی۔ اتحادیوں کے اعتراضات تفصیل سے سنے اور انہیں دور کیا گیا۔ تمام اتحادیوں نے وزیراعظم عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔