چاہتے ہیں افغانستان میں استحکام آئے، دہشت گردی ناقابل قبول ہے: اسحاق ڈار

Published On 29 November,2025 04:32 pm

اسلام آباد:(دنیا نیوز) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ چاہتے ہیں افغانستان میں استحکام آئے، دہشتگردی ناقابل قبول ہے

وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کا کہنا تھا کہ میری سب سے پہلی میٹنگ ماسکو میں تھی ،گزشتہ دس بارہ دنوں میں پاکستان کی سفارتی مصروفیات رہی، ماسکو، برسلز، بحرین کے دورے کیے۔

اُنہوں نے کہا کہ ماسکو اجلاس میں پاکستان کی معاشی ترجیحات کا موقف پیش کیا،ایس سی او کانفرنس میں وزیراعظم کی ہدایت پر پاکستان کی نمائندگی کی اور ملک کی جانب سے شعبہ توانائی اور باہمی روابط بارے گفتگو کی۔

نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سترہ اور اٹھارہ کو روس کا دورہ کیا، دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی، روسی صدر پیوٹن کو پاکستان کےدورے کی دعوت دی، دورہ ماسکو میں انتہائی کامیاب ملاقاتیں ہوئیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ایس سی او ممالک کے ساتھ روابط کے مزید فروغ پر بھی غور ہوا، ماسکو میں سراہان حکومت کے اجلاس میں 11 فیصلے ہوئے، روسی صدر کے ساتھ خطے کی صورتِ حال اورغزہ میں امن کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔

اُن کا کہنا تھا کہ خطے میں قیام امن کیلئے افغانستان میں امن ضروری ہے، ہم نے عوام قیادت کے ساتھ کیے تمام وعدے پورے کیے ، ہم افغان حکومت سے کے ساتھ اب بھی کھلے دِل سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان سے کہا کہ اپنی سرزمین سے دہشت گردی نہ ہونے دیں، یورپی یونین نے افغانستان کے متعلق پاکستان کے موقف کی تائید کی، افغان مہاجرین کو ہم باعزت طور پر واپس بھیجتے ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ایس سی او اجلاس میں جی ایس پی پلس سمیت مختلف اُمور پر بات چیت ہوئی، حکومت پاکستان چاہتی ہے افغانستان کے لوگ ترقی کریں، یورپی حکام سے ملاقاتوں میں غلط فہمیوں کو دور کیا گیا، یورپی یونین کو بریف کیا کہ افغانستان میں امن چاہتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اجلاس میں افغانستان سے جاکر کہا امن ہی واحد راستہ ہے، افغانستان کی ترقی، دہشت گردی کا مسئلہ، سندھ طاس معاہدہ اور مسئلہ کشمیر پر بات ہوئی، چاہتے ہیں افغانستان میں استحکام آئے، دہشتگردی ناقابل قبول ہے۔

نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان نے افغان سرد جنگ کے دوران نیٹو کے ساتھ مل کر کام کیا، نیٹوہیڈ کوارٹرز میں نیٹو سیکرٹری جنرل سے ملاقات کی، یورپی یونین کے 8ممبرز سے بھی ملاقات ہوئی، پاکستان نے افغان سرد جنگ کے دوران نیٹو کے ساتھ مل کر کام کیا۔