72 شوگر ملز کو جرمانے، سپریم کورٹ کا ٹریبونل کو 90 روز میں فیصلہ کرنے کا حکم

Published On 05 January,2026 12:58 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) سپریم کورٹ نے 72 شوگر ملز کو جرمانے کے معاملے میں مسابقتی کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران فیصلہ دیا کہ ٹربیونل کیس سن کر 90 روز میں فیصلہ کرے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی 3 رکنی بنچ نے سماعت کے بعد فریقین کو نوٹس جاری کر دیے، کیس کی مزید سماعت اگلی جمعرات تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

مسابقتی کمیشن کی وکیل عصمہ حامد نے عدالت سے استدعا کی کہ آرڈر میں کمیشن کو کیس سننے کے الفاظ شامل کیے جائیں، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی اپیل میں بس اتنی سی استدعا ہے تو ہم آرڈر کردیتے ہیں۔

جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ ہم تمام فریقین کو سن کر ہی فیصلہ کریں گے۔

مسابقتی کمیشن میں 4 ممبران نے درخواست گزار شوگر ملز کو سنا، جس کے نتیجے میں چیئرمین اور ایک ممبر نے جرمانے عائد کیے جبکہ دیگر 2 ممبران نے شوکاز نوٹس کالعدم قرار دے کر دوبارہ انکوائری کا حکم دیا۔

چونکہ فیصلہ دو دو ممبران سے برابر تھا، اس لیے مسابقتی کمیشن ایکٹ کی شق 24(5) کے تحت چیئرمین کو فیصلہ کن ووٹ کا اختیار دیا گیا۔

درخواست گزاروں نے متعلقہ ٹریبونل سے رجوع کیا، جس نے 90 روز میں معاملہ دوبارہ سن کر فیصلہ کرنے کا حکم دیا، اس فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی گئی، جہاں چیف جسٹس سمیت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس شکیل احمد نے کیس کی سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ چیئرمین مسابقتی کمیشن کا نیم عدالتی کارروائی میں شامل ہونا اور دوبارہ فیصلہ کن ووٹ کا حق دینا ڈبل ووٹ کے مترادف ہے۔

عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ شق 24(5) کا استعمال صرف انتظامی سطح پر ہو سکتا ہے اور ٹریبونل 90 روز میں کیس سن کر فیصلہ کرے۔