لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے کائٹ فلائنگ ایکٹ2025 پر فوری عملدرآمد روکنے کی استدعا مسترد کر دی اور فریقین کو دلائل کیلئے طلب کر لیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک اویس خالد نے جوڈیشل ایکٹوازیم پینل کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار کی جانب سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 آئین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے، پتنگ بازی خونی کھیل ہے اس کی اجازت دینا شہریوں کی زندگی خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ عدالت کائٹ فلائنگ ایکٹ کو کالعدم قرار دے اور درخواست کے حتمی فیصلے تک ایکٹ پر عملدرآمد روکنے کا حکم دے۔
دوران سماعت عدالت نے کائٹ فلائنگ ایکٹ پر فوری عملدرآمد روکنے کی استدعا مسترد کر دی، عدالتی حکم پر درخواست گزار نے کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کو فریق بنا دیا۔
عدالت نے درخواست پر مزید کارروائی 16 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر سرکاری وکیل کو دلائل کی ہدایت دے دی۔



