لاہور ہائیکورٹ کا نہر کنارے درختوں کی کٹائی پر اظہارِ برہمی، تفصیلی رپورٹ طلب

Published On 09 January,2026 11:17 am

لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ میں سموگ کے تدارک سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے دوران ڈاکٹر ہسپتال کے قریب نہر سے درختوں کی کٹائی پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی، دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ڈاکٹرز ہسپتال کے سامنے نہر کے کنارے درخت کاٹے گئے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ متعدد بار درختوں کی کٹائی سے روکنے کا حکم دیا ہے، درختوں کی کٹائی پر ایس ایچ او کو بلا کر پرچہ درج کراؤں گا، اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی جبکہ سوموار کو اس معاملے کی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔

جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ متعدد بار کہا کہ پارکس کو ریسٹورنٹس کیلئے استعمال نہ کریں، پی ایچ اے کو پارکس کے حوالے سے پالیسی بنانے کا کہا ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ ناصر باغ کے بارے میں کیا رپورٹ ہے، وکیل اظہر صدیق نے بتایا کہ ناصر باغ میں پارکنگ پلازہ کی آئینی حیثیت چیلنج کردی گئی ہے۔

عدالت نے ماہرین کو ناصر باغ کے حوالے سے آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی، ناصر باغ کا معاملہ عدالت کی نگرانی میں مکمل ہوگا، عدالت نے ریمارکس دیے کہ گلی محلوں میں واشنگ سٹیشنز پر کارروائی کیوں نہیں کی جارہی، کیوں ان سروس سٹیشنز کو جرمانے نہیں کئے جارہے ہیں۔

عدالت نے محکمہ ماحولیات سے صنعتی یونٹس کی آلودگی سے متعلق رپورٹ طلب کی، محکمہ ماحولیات کے وکیل نے بتایا کہ عدالتی حکم پر 141 صنعتی یونٹس کو بند کیا گیا ہے، اب آلودگی یا دھواں چھوڑنے کی کوئی شکایت نہیں ہے، عدالت نے ریمارکس دیے کہ ڈی جی ماحولیات اچھا کام کر رہے ہیں جبکہ بڑی مشکل سے صنعتی یونٹس میں ٹریٹمنٹ پلانٹ لگوائے گئے ہیں۔

عدالت نے مزید کہا کہ ان یونٹس کی فزیکل انسپکشن لازمی ہونا چاہیے جبکہ عدالت نے مختلف محکموں سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کارروائی آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔