بیرسٹر گوہر نے جوڈیشل کمیشن اجلاس میں شرکت بانی سے ملاقات سے مشروط کر دی

بیرسٹر گوہر نے جوڈیشل کمیشن اجلاس میں شرکت بانی سے ملاقات سے مشروط کر دی

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پارٹی کا مؤقف ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے نئے قوانین اور 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد اجلاس میں شرکت کا طریقہ کار واضح ہونے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا، پی ٹی آئی ممبران گزشتہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاسوں میں شریک نہیں ہوئے کیونکہ 26 ویں آئینی ترمیم پر شدید تحفظات تھے، تاہم کمیٹی میں شامل ہونے کے باوجود پارٹی اپنا موقف پیش کرنے کیلئے تیار تھی۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد ہی حتمی فیصلہ ہوگا کہ جوڈیشل کمیشن اجلاس میں کس انداز میں شرکت کی جائے، 27 ویں آئینی ترمیم اور نئی عدالت بننے کے بعد بانی سے ملاقات نہیں ہوئی اور یہ ملاقات اگلے اقدامات کی بنیاد ہوگی۔

صحافیوں کے سوالات کے جواب میں بیرسٹر گوہر نے اپوزیشن لیڈر کے نوٹیفکیشن کے حوالے سے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن سپیکر قومی اسمبلی کے صوابدیدی اختیار میں تھا اور یہ نوٹیفکیشن اسی کی بنیاد پر جاری ہوا، ہماری کوشش تھی کہ اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن ہو اور جو بھی یہ کروائے، بہتر ہوا، ہم سپیکر کے مشکور ہیں۔

سیینٹ میں اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کے بارے میں پوچھے جانے پر بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ آج یا کل نوٹیفکیشن جاری ہو جائے گا، بانی پی ٹی آئی نے دونوں رہنماؤں کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر نامزد کیا ہے اور دونوں کا ہونا بہتر ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی نے دیگر کمیٹیوں کی طرح جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے، لیکن بانی سے ملاقات کے بعد مستقبل میں شرکت کے حتمی فیصلے کئے جائیں گے۔

بیرسٹر گوہر کا غزہ امن کمیٹی پر مؤقف

صحافیوں کے سوال پر کہ غزہ امن کمیٹی کا دعوت نامہ وزیر اعظم کو بھیجا گیا ہے، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور عالمی سطح پر مسلم امہ بھی یہ سمجھتی ہے کہ فلسطین کیلئے ایک دائمی حل نکلنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اس معاملے پر فیصلہ لینا ہوگا اور مسلم امہ کے نقطہ نظر کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے، پارلیمنٹ میں جب یہ معاملہ آئے گا، تب پی ٹی آئی کی طرف سے اس کی حمایت یا حکمت عملی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ فلسطین کیلئے حل تلاش کرنا عالمی انصاف اور امن کے فروغ کیلئے ضروری ہے اور پاکستان اس حوالے سے مثبت کردار ادا کرنے کا پابند ہے،امید ہے کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے پارلیمنٹ میں پیش کرے گی تاکہ قانونی اور سفارتی طریقے سے مسئلہ فلسطین کے حل کی راہ ہموار ہو۔