خلاصہ
- پشاور: (دنیا نیوز) خیبرپختونخوا اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی دہشت گردوں کی سہولت کاری کر رہی ہے، صوبائی حکومت صوبے میں اپنی کارکردگی پر توجہ دے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کیلئے خیبرپختونخوا کو 800ارب روپے ملے، لیکن اب بھی صوبے میں نہ سی ٹی ڈی ہے، نہ فارنزک لیب اور نہ ہی سیف سٹی۔ یہ پیسے کہاں گئے؟ صوبے میں حالات خراب ہوتے جارہے ہیں، سردیوں میں آپریشن مشکل ہے لیکن اس کے علاوہ راستہ کیا ہے۔
ڈاکٹر عباد نے کہا کہ سردی میں آپریشن کی وجہ سے گھروں کو چھوڑنا مشکل ہے لیکن اس کے علاوہ راستہ کیا ہے؟ صوبائی حکومت بھڑکیں مار رہی ہے کہ ہم آپریشن کے خلاف ہے لیکن آپریشن کے پیسے خود دے رہی ہے، ایپکس کمیٹی کی میٹنگ میں فیصلہ ہوا تھا، اُدھر جا کر کچھ اور کہتے ہیں باہر جاکر کچھ اور۔
انہوں نے کہا کہ یہ 8فروری کو سٹریٹ مارچ کررہے ہیں، خیبرپختونخوا میں تو ان کا مینڈیٹ ہے، چیلنج کرتا ہوں انہوں نے دوسالوں میں کوئی تعلیمی ادارہ یا ڈسپنسری بنائی ہو، باقی صوبے آگے جارہے ہیں خیبرپختونخوا نے ریورس گیئر لگایا ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت تین لوگوں کا ٹولہ خیبرپختونخوا کو چلا رہا ہے، صوبے میں کرپشن کی بھرمار ہے، خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ 13سال سے زیادہ ہورہی ہے،اب اس کا ازالہ بھی کریں، کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد عمران خان نے کہا کہ یہ یوم فتح ہے، طالبان کو پاکستان لانے والے سہولتکار بھی یہی ہیں اور دہشتگروں کو بھتہ بھی دیتے ہیں۔
ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا ہے کہ فاٹا ریفارمز کے پیسوں کی بات کرتے ہیں لیکن اس وقت حکومت عمران خان کی تھی، اس وقت انہیں خیال کیوں نہ آیا؟ این ایف سی کے ممبرز میں بھی ان کے لوگ تھے لیکن انہوں نے بات کیوں نہیں کی؟
اس موقع پر مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ صوبائی حکومت تمام وسائل وفاق کے خلاف استعمال کررہی ہے، خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف کوئی سیریس ایفرٹ نظر نہیں آرہی، خیبرپختونخوا حکومت کا کوئی بندہ امن جرگے میں شامل نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی صوبے کے امن پر فوکس کریں، اس وقت پوری قوم کو متحد اوریکجا ہونا چاہئے، بھارتی تھریٹس ،ایران پر امریکی منصوبہ بندی کے حوالے سےہمیں تیار رہنا چاہئے تاہم خیبرپختونخوا حکومت دشمن سے کم کا کردار ادا نہیں کررہی، خیبرپختونخوا حکومت قوم میں تقسیم پیدا کررہی ہے۔